ضلعی انتظامیہ پونچھ کے ترجمان کے مطابق کالعدم ایکشن کمیٹی تعلیمی اداروں کے سربراہان کو دھمکیاں دے رہی ہے اور طلبہ کو اسکول جانے سے روکا جا رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق مختلف علاقوں میں مسلح افراد کی جانب سے ناکے قائم کیے گئے ہیں۔ سڑکیں بند ہیں اور سرکاری ملازمین کو بھی زدوکوب کیا جا رہا ہے۔
خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات
ضلعی انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ تحصیل ہجیرہ میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
ترجمان کے مطابق خواتین کا راستہ روکا گیا اور انہیں زبردستی نقاب اتار کر شناخت کروانے پر مجبور کیا گیا۔
راولاکوٹ شہر اور اطراف میں بھی مسلح افراد کی مورچہ بندی کی گئی ہے۔ ترجمان کے مطابق چاندنی چوک سے ڈی چوک، بس ٹرمینل اور تیارمیہ کے اطراف میں مسلح افراد موجود ہیں۔
انتظامیہ نے ان حالات کو سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا ہے۔
اسکول اور کالجز بند
ضلعی انتظامیہ کے مطابق مسلح عناصر خوف و ہراس پھیلا کر سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے زبردستی بند کروا رہے ہیں۔
ترجمان کے مطابق تحصیل راولاکوٹ اور تھوراڑ کے علاوہ دریک، حسین کوٹ، چک، کھائیگلہ، بجنوسہ، جھنڈاالی، دو تھان، بن بہک، بگھر، ملی سومہل، سنگولہ، پاینڈول اور جنڈالہ میں اسکول اور کالجز بند کرائے گئے ہیں۔
انتظامیہ کے ترجمان نے کہا کہ ایک طرف بچوں کا مستقبل اور تعلیمی نظام متاثر کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف دھرنے کے اسٹیج سے اسکولوں کی بندش کا الزام حکومت پر عائد کیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کی زبردستی بندش اور طلبہ کو اسکول جانے سے روکنے کے اقدامات کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے کیے جا رہے ہیں۔