پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دفاعی صنعتی تعاون کو فروغ دینے، مشترکہ پیداوار میں اضافہ کرنے اور طویل مدتی تزویراتی مفادات کے تحفظ کی غرض سے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ اقدام دفاعی خود انحصاری اور مضبوط تکنیکی بنیاد قائم کرنے کی سمت میں ایک انتہائی اہم سنگِ میل ہے۔
یہ مفاہمتی یادداشت ایسے مستقبل کی بنیاد رکھتی ہے جہاں امن کا دارومدار مقامی دفاعی صلاحیت، تکنیکی خود انحصاری اور مؤثر دفاعی بازدارندگی پر ہو۔ موجودہ غیر یقینی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور مشرق وسطیٰ کے تنازعات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ تزویراتی خود مختاری کے لیے جدید سازوسامان حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسے خود تیار کرنے اور برقرار رکھنے کی صلاحیت بھی ناگزیر ہے۔
بدر مفاہمتی یادداشت کے تحت دفاعی تعاون کو روایتی خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلقات سے آگے بڑھا کر مشترکہ تیاری، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور بری، فضائی، بحری اور خودکار نظاموں کی مشترکہ پیداوار تک وسعت دی گئی ہے۔ یہ معاہدہ تحقیق و ترقی، صنعتی پیداوار اور سپلائی چین کو مربوط کرنے کا ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
خلیجی خطے میں حالیہ جنگی کشیدگی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصانات نے اس شراکت داری کی اہمیت کو دوچند کر دیا ہے۔ یہ اقدام طویل مدتی سپلائی چین کے استحکام کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ پاکستان تمام ممالک کے ساتھ امن پر یقین رکھتا ہے، اور اس دفاعی تعاون کا مقصد علاقائی استحکام اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینا ہے۔





