وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے میں گمشدہ افراد (مسنگ پرسنز) کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے اور اب اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
ایکس پر جاری ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ گڈ گورننس اور میرٹ کے ذریعے سے ہی ہم بلوچستان کی محرومیوں کا ازالہ کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں گمشدہ افراد کے مسئلے پر سیاست کی گئی اور ریاست کو مورد الزام ٹھہرایا گیا تھا، تاہم موجودہ حکومت نے پہلی بار اس مسئلے کا عملی اور مستقل حل پیش کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ نے دو نئے ڈویژنز، پشین اور کوہِ سلیمان، کے قیام کی منظوری دی ہے، جبکہ مزید ڈویژنز اور اضلاع بنانے پر بھی کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے واضح قانونی فریم ورک موجود ہے، جس کے بعد لاپتہ افراد کے معاملے میں ریاست پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے جا سکیں گے۔
بلوچستان میں مسنگ پرسنز کا مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل کر دیا گیا ہے، مختلف لوگوں نے مسنگ پرسنز کے ایشو پر صرف سیاست چمکائی ریاست کو مورد الزام ٹہرایا اور ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کی ہم نے پہلی دفعہ اس کا حل نکالا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس مشتبہ افراد سے تفتیش کے لئے…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) January 20, 2026
سرکاری ملازمین میں میرٹ کو یقینی بنانے کے لیے بھی اہم اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شروع کیا جا رہا ہے۔ جعلی ڈگری ہولڈرز کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی اور سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس کا آغاز ڈیرہ بگٹی اور نصیرآباد اضلاع سے ہوگا۔
دیکھیں: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ، 9 افراد ہلاک