"> آئی ایس آئی پر الزامات: بی بی سی کے خلاف سوشل میڈیا مہم
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

آئی ایس آئی پر مبینہ بدسلوکی کے الزامات: بی بی سی کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا

پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں پر مبینہ بدسلوکی کے الزامات عائد کرنے کے بعد بی بی سی کو سوشل میڈیا پر شدید عوامی اور تکنیکی تنقید کا سامنا ہے، جہاں ناقدین اور ماہرین اسے صحافتی اثر و رسوخ کا غلط استعمال قرار دے رہے ہیں۔
پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں پر مبینہ بدسلوکی کے الزامات عائد کرنے کے بعد بی بی سی کو سوشل میڈیا پر شدید عوامی اور تکنیکی تنقید کا سامنا ہے، جہاں ناقدین اور ماہرین اسے صحافتی اثر و رسوخ کا غلط استعمال قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی اداروں پر الزامات کے بعد سوشل میڈیا پر شدید مہم کا آغاز۔ ماہرین نے دستاویزی ثبوت فراہم نہ کرنے پر برطانوی ادارے کے دعووں کو صحافتی اصولوں کے منافی قرار دے دیا۔

May 28, 2026

بی بی سی کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں، بالخصوص انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) پر اپنے رپورٹرز کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف شدید تنقید نظر آ رہی ہے۔ عوامی اور صحافتی حلقوں میں اس اقدام کو مبالغہ آرائی اور سنسنی خیزی پر مبنی قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ناقدین کا کہنا ہے کہ بی بی سی جیسے عالمی ادارے کو اپنے نام اور تاریخی ساکھ کا پاس رکھنا چاہیے تھا۔ اگر ادارے کے پاس اپنے رپورٹرز کے ساتھ بدسلوکی کے کوئی حقیقی شواہد موجود ہیں تو انہیں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پبلک فورم پر سامنے لایا جائے، بصورتِ دیگر ریاست کے انتہائی حساس اداروں پر بغیر کسی تحقیق کے من گھڑت الزامات لگانے سے مکمل گریز کیا جائے۔

سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ مؤقف بھی مضبوطی سے سامنے آیا ہے کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں عوامی سطح پر ایسے الزامات کا جواب نہیں دیتیں، اسی کا فائدہ اٹھا کر ان کا نام لے کر سنسنی پھیلانا انتہائی آسان کام بن چکا ہے۔

ناقدین کے مطابق محض صحافی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی بھی دعوے کو بلا تحقیق اور بغیر ثبوت کے ایک حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔

دوسری جانب ماہرینِ ابلاغ عامہ نے بھی اس معاملے پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقائق کو مسخ کر کے مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرنا، ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور انہیں بین الاقوامی سطح پر ہراساں کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف صحافتی اثر و رسوخ کا سنگین غلط استعمال ہے بلکہ یہ صریحاً بلیک میلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کا طرزِ عمل کسی بھی طور پر پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں، اخلاقیات اور بین الاقوامی اقدار کے مطابق نہیں ہے اور اس سے ادارے کی اپنی معتبریت شدید متاثر ہو رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *