بی بی سی کی جانب سے پاکستانی سیکیورٹی ایجنسیوں، بالخصوص انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) پر اپنے رپورٹرز کے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ادارے کے خلاف شدید تنقید نظر آ رہی ہے۔ عوامی اور صحافتی حلقوں میں اس اقدام کو مبالغہ آرائی اور سنسنی خیزی پر مبنی قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث میں ناقدین کا کہنا ہے کہ بی بی سی جیسے عالمی ادارے کو اپنے نام اور تاریخی ساکھ کا پاس رکھنا چاہیے تھا۔ اگر ادارے کے پاس اپنے رپورٹرز کے ساتھ بدسلوکی کے کوئی حقیقی شواہد موجود ہیں تو انہیں دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ پبلک فورم پر سامنے لایا جائے، بصورتِ دیگر ریاست کے انتہائی حساس اداروں پر بغیر کسی تحقیق کے من گھڑت الزامات لگانے سے مکمل گریز کیا جائے۔
سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ مؤقف بھی مضبوطی سے سامنے آیا ہے کہ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیاں عوامی سطح پر ایسے الزامات کا جواب نہیں دیتیں، اسی کا فائدہ اٹھا کر ان کا نام لے کر سنسنی پھیلانا انتہائی آسان کام بن چکا ہے۔
ناقدین کے مطابق محض صحافی ہونے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ کسی بھی دعوے کو بلا تحقیق اور بغیر ثبوت کے ایک حتمی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لیا جائے۔
دوسری جانب ماہرینِ ابلاغ عامہ نے بھی اس معاملے پر اپنے گہرے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حقائق کو مسخ کر کے مبالغہ آمیز انداز میں پیش کرنا، ریاستی اداروں پر بے بنیاد الزامات عائد کرنا اور انہیں بین الاقوامی سطح پر ہراساں کرنے کی کوشش کرنا نہ صرف صحافتی اثر و رسوخ کا سنگین غلط استعمال ہے بلکہ یہ صریحاً بلیک میلنگ کے زمرے میں آتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کا طرزِ عمل کسی بھی طور پر پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں، اخلاقیات اور بین الاقوامی اقدار کے مطابق نہیں ہے اور اس سے ادارے کی اپنی معتبریت شدید متاثر ہو رہی ہے۔