جھل مگسی: 29 مارچ کی رات بلوچستان کے ضلع جھل مگسی کا علاقہ گنداواہ مکمل اندھیرے میں ڈوب گیا، جہاں بجلی کے نظام پر منظم حملے کے بعد 50 ہزار سے زائد افراد شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق نامعلوم حملہ آوروں نے پہلے 132 کے وی ٹرانسمیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد 33 کے وی لائن پر بھی کارروائی کی گئی۔ رات کی تاریکی میں 26 کھمبوں سے تاریں اتار لی گئیں جبکہ 5 کھمبوں کو گرا دیا گیا، جس کے نتیجے میں پورا علاقہ بلیک آؤٹ ہو گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ کوئی معمولی تخریب کاری نہیں بلکہ ایک منظم اور منصوبہ بند کارروائی تھی، جس کا مقصد بنیادی انفراسٹرکچر کو مفلوج کرنا تھا۔ یہ واقعہ گزشتہ دو ماہ میں اس نوعیت کی دوسری بڑی کارروائی ہے، اس سے قبل بھی درجنوں کھمبوں سے تاریں چوری کی جا چکی ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس بلیک آؤٹ کے باعث ٹیوب ویلز بند ہو گئے، ہسپتالوں کی سروسز متاثر ہوئیں، آپریشن تھیٹرز کو خطرات لاحق ہوئے جبکہ طلبا انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہو گئے۔
سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بی ایل اے جیسے گروہوں کی کارروائیاں دراصل سکیورٹی فورسز کے خلاف نہیں بلکہ براہ راست عام شہریوں کو نشانہ بنا رہی ہیں، جس سے روزمرہ زندگی مفلوج ہو رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حکمت عملی واضح طور پر عوامی دباؤ بڑھانے اور ریاستی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش ہے، جس کے تحت بنیادی سہولیات کو نشانہ بنا کر عدم استحکام پیدا کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب سکیورٹی حلقوں کا دعویٰ ہے کہ بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات کسی حد تک بیرونی عناصر کے اثر و رسوخ سے بھی جڑے ہو سکتے ہیں، جہاں بھارت اور اسرائیل کے پراکسی نیٹ ورکس کے دوبارہ فعال ہونے کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق بی ایل اے اور بی ایل ایف جیسے گروہ مکمل طور پر خودمختار نہیں بلکہ بیرونی ایجنڈے کے تحت کام کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے نہ صرف ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں بلکہ یہ بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کر کے انہیں مزید مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔
دیکھئیے:جھل مگسی کے تھانہ کوٹرا پر فتنہ الخوارج کا حملہ؛ 11 سالہ بچہ شہید، دو حملہ آور ہلاک