اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہر اور معروف سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے بین الاقوامی میڈیا نیٹ ورک ‘ایشیا ون’ پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے مسلح اور خودکش حملوں میں خواتین کا استعمال تنظیم کے اندرونی بحران، شدید مایوسی اور تنظیمی کمزوری کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ عسکری گروہ اکثر سکیورٹی چیک پوائنٹس اور سخت حفاظتی طریقہ کار کے دوران کم توجہ حاصل ہونے کے باعث خواتین کو حملوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ان کا یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ خواتین پر عام طور پر کم شک کیا جاتا ہے۔
ماضی سے مماثلت
ڈاکٹر ابراہیم المراشی نے نشاندہی کی کہ بی ایل اے کا یہ طریقہ کار ماضی کی دیگر عسکری اور علیحدگی پسند تنظیموں کی حکمتِ عملی سے مکمل مشابہت رکھتا ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ ماضی میں چیچن علیحدگی پسندوں نے بھی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے خواتین خودکش حملہ آوروں کو بڑے پیمانے پر بھرتی کیا تھا۔ عسکری گروہ خواتین کو ان آپریشنز میں اس وقت جھونکنے پر مجبور ہوتے ہیں جب وہ اپنے مرد حملہ آوروں کو سکیورٹی فورسز کی سخت مانیٹرنگ سے بچا کر اہداف تک پہنچانے میں مسلسل ناکام ہو رہے ہوں۔
نظریاتی استحصال
تجزیہ کار کے مطابق، عسکری گروہوں میں خواتین کی بھرتی کے پیچھے مختلف پیچیدہ وجوہات کارفرما ہوتی ہیں جن میں نظریاتی گمراہ کن بیانیہ، تنظیمی دباؤ، زبردستی اور بعض خواتین کی نجی و ذاتی مشکلات شامل ہیں۔ شدت پسند قیادت ان خواتین کے سماجی اور ذاتی حالات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں جذباتی طور پر متاثر کرتی ہے۔ مزید برآں، یہ عسکری گروہ خواتین کو علامتی طور پر پیش کر کے پروپیگنڈا مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ مردوں کو یہ طعنہ دے کر تنظیم میں شامل ہونے کی ترغیب دی جا سکے کہ وہ مرد ہونے کے باوجود پیچھے ہٹ رہے ہیں۔
عالمی میڈیا کی توجہ؟
ڈاکٹر الماشی نے اس اہم حقیقت پر بھی روشنی ڈالی کہ بی ایل اے کی جانب سے خطے میں مسلح سرگرمیاں بڑھانے کے باوجود اسے عالمی میڈیا میں القاعدہ اور داعش جیسے بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں کے مقابلے میں انتہائی کم توجہ ملتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھرتی کے اسباب کا سدباب کرنے کے لیے انتہا پسندانہ بیانیے کا توڑ اور پروپیگنڈے کو روکنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے تاکہ ایسے انتہا پسند گروہوں کی فنڈنگ اور میڈیا نیٹ ورکس کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔