فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ضلع کرم میں جوانوں کے ساتھ عید مناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کام کرنے والے دہشت گردوں کو ملکی سلامتی متاثر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی
ایران نے چار ہزار کلومیٹر دور بحرِ ہند میں امریکی و برطانوی فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنا کر اپنی جنگی طاقت کا لوہا منوا لیا، جبکہ اسرائیل پر بھی میزائل حملوں میں بھاری نقصان کا دعویٰ کیا گیا ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی حتمی مہلت دیتے ہوئے ایرانی بجلی گھروں کو تباہ کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جس کے جواب میں ایران نے بھی امریکی تنصیبات پر حملے کا انتباہ جاری کیا ہے
نورستان کے ضلع کامدیش میں پاکستانی فورسز کی جانب سے مبینہ گولہ باری اور جانی نقصان کے دعوے بے بنیاد ثابت ہو گئے ہیں۔ تحقیقات کے مطابق یہ خبریں سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہی
دہشتگردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے معاشی مشکلات، کمزور ادارے اور سماجی عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، اس لیے اس کے خاتمے کیلئے جامع حکمت عملی درکار ہے۔
انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت کو اندرونی خلفشار سے دوچار کر دینا کتنا بڑا جرم ہو گا۔ ان کی محبت عقیدت کا گھنٹہ گھر ایک شخص ہے ۔ اس کے علاوہ جو بھی ہے ان کی جانے بلا۔
ذرائع کے مطابق استنبول میں ہونے والے یہ مذاکرات ترک خفیہ ادارے "ایم آئی ٹی" کے سربراہ ابراہیم قالن کی میزبانی میں ہوں گے، جس کا مقصد سرحدی کشیدگی، دہشت گردی، اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے 31 اکتوبر کو خیبر ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے طورخم اور چمن جیسے اہم تجارتی راستوں کی عارضی بندش نے دونوں ممالک کے تاجروں کو نقصان پہنچایا ہے، اور "تجارت کو سیاست کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔"
اسلامی امارت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ استنبول مذاکرات کے دوران افغان فریق نے پاکستان کو پیشکش کی تھی کہ وہ ان افراد کو ملک بدر کرنے کے لیے تیار ہیں جنہیں اسلام آباد سکیورٹی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، مگر پاکستان نے یہ پیشکش قبول نہیں کی۔
ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے مذاکرات کے اختتام پر جاری بیان میں کہا کہ پانچ روزہ مذاکرات 25 سے 30 اکتوبر 2025 تک استنبول میں منعقد ہوئے، جن کا مقصد 18 اور 19 اکتوبر کو دوحہ میں طے پانے والی جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا۔
استنبول مذاکرات میں پاکستانی وفد نے امن و امان سے متعلق اہم مطالبات پیش کیے لیکن طالبان وفد کی جانب سے مثبت پیش رفت اور سنجیدگی نہ ہونے کے باعث مذاکرات بغیر کسی نتیجہ کے روک دیے گئے
پاکستانی حکام کے مطابق اسلام آباد کا مؤقف بالکل واضح اور اصولی ہے۔ پاکستان نے افغان سرزمین سے سرگرم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
افغان وفد کی قیادت نجيب حقانی کر رہے ہیں، جو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے سینئر رکن ہیں اور سراج الدین حقانی کی نگرانی میں سرحدی معاملات کے بعض امور دیکھ رہے ہیں۔