سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو سچ کا معجزہ نے بھارت کی خفیہ منصوبہ بندی اور پاکستان کے عبرتناک دفاعی جواب کی مکمل عکاسی پیش کر دی ہے، جس میں دشمن کی پسپائی کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔
چارسدہ میں جمیعت علمائے اسلام سے وابستہ ممتاز عالمِ دین شیخ محمد ادریس کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے شہید کر دیا، جس کی ذمہ داری داعش نے قبول کر لی ہے۔
منظور پشتین کی ویڈیو میں ریاست پر الزامات اور متوازی نظام کی تجویز نے سوالات اٹھا دیے ہیں، جبکہ ریاستی مؤقف کے مطابق اقدامات دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تھے۔
افغانستان میں لباس کی بنیاد پر خواتین پر تشدد اور گرفتاریوں نے انسانی حقوق کے اصولوں پر سوالات اٹھا دیے ہیں اور معاشرے میں خوف اور دوری کو بڑھا دیا ہے۔
مولانا صاحب کے قتل میں وہی ہاتھ ملوث ہیں جنہوں نے پہلے ان کے خلاف سوشل میڈیا پر مذاق اڑایا اور گالم گلوچ کی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے لوگ بعد میں خود کو بری الذمہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
طالبان رہنما قاری سعید خوستی کے بیان نے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی موجودگی اور طالبان کے دوہرے معیار پر ایک بار پھر سوالات اٹھا دیے ہیں، جہاں ذمہ داری کے بجائے الزامات کا سہارا لیا گیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ٹائم میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا، میں نے عرب ممالک سے وعدہ کیا ہے۔ اگر اسرائیل نے یہ قدم اٹھایا تو اسے امریکی حمایت سے محروم ہونا پڑے گا
سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 بیس جولائی 2015 کو منظور ہوئی تھی، جس کے تحت ایران پر عائد جوہری پابندیاں عارضی طور پر معطل کی گئی تھیں۔ اس کی دس سالہ مدت 18 اکتوبر 2025 کو مکمل ہو گئی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو سخت الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اتوار کی شام تک جواب نہ دیا گیا تو غزہ پر ایسا قیامت خیز حملہ کیا جائے گا جو تاریخ میں پہلے کبھی نہ دیکھا گیا ہو۔