حکام کا کہنا ہے کہ ملزم کو گزشتہ سال حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر الزام تھا کہ وہ اہم سکیورٹی تنصیبات سے متعلق معلومات اسرائیلی ایجنسی تک پہنچاتا رہا
حمداللہ فطرت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان اور فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ بحالی مرکز کے 492 افراد زندہ ہیں اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
ان کے بیان میں عام شہریوں، بالخصوص حساس طبقات کے حوالے سے بھی سخت اور متنازع زبان استعمال کی گئی، جسے انسانی حقوق کے تناظر میں تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے
سراج الدین حقانی نے کہا کہ اسلامی امارت توقع رکھتی ہے کہ پاکستان کے مسلمان اور بااثر حلقے ایسے اقدامات کے خلاف آواز اٹھائیں گے جو معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں
ملاقات میں افغانستان کے نائب وزیر داخلہ مولوی محمد نبی عمری، نائب وزیر برائے سلامتی امور مولوی محمد ابراہیم صدر، انسداد منشیات کے ڈپٹی عبدالحق ہمکار اور پبلک سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی مولوی سید اللہ حماس سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
امریکی محکمہ انصاف کے ریکارڈز کے مطابق بھارت کے بڑے کارپوریٹ ادارے جن میں اڈانی اور ٹاٹا گروپ شامل ہیں، نے واشنگٹن میں معروف لابنگ اداروں جیسے "کرک لینڈ & ایلس" اور "کیون ایمول" کی خدمات حاصل کیں۔
دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج یوم الحاق پاکستان منارہے ہیں۔ 19 جولائی 1947 کو کشمیریوں نے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا تھا تاہم بھارت نے بےجا طاقت کا استعمال کرتے ہوئے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا۔ بھارتی ظلم و جبر کے باوجود مقبوضہ کشمیر کے کشمیری آج بھی پاکستان کے ساتھ ہیں۔
پاکستان، افغانستان اور ازبکستان کے وزرائے خارجہ کی موجودگی میں کابل میں امارتِ اسلامیہ کی منسٹری آف پبلک ورکس، ازبکستان کے وزارتِ ٹرانسپورٹ اور پاکستان کے وزارتِ ریلوے کے درمیان سہ ملکی ریلوے منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی سے متعلق مفاہمتی یادداشت پر دستخط بھی کردیے گئے۔
اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے افغان قیادت کی مہماننوازی پر شکریہ ادا کیا اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا۔
پاکستانی وفد کی قیادت سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے کی، جبکہ یورپی یونین کی نمائندگی یورپی ایکسٹرنل ایکشن سروس کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سفیر اولاف سکوگ نے کی۔
اسحاق ڈار کی افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات پر اہم بات چیت ہوئی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اس وقت سہہ فریقی کانفرنس میں شرکے کیلئے اپنے وفد کے ہمراہ کابل میں موجود ہیں۔
کابل میں آمد کے فوراً بعد امارت اسلامیہ افغانستان کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی میزبانی میں ایک سہ فریقی سیاسی مشاورتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام شرکت کریں گے۔