خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
افغانستان کی پائیدار سلامتی اور ترقی کا انحصار ایک ایسے سیاسی ڈھانچے پر ہے جو تمام نسلی اور مذہبی گروہوں کو بااختیار بنائے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ جامع مکالمہ، آئینی اصلاحات اور وسیع البنیاد حکومت ہی ملک کو داخلی استحکام اور عالمی قبولیت کی جانب لے جا سکتی ہے۔ بصورت دیگر نسلی و سیاسی تقسیم خطے میں عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر قرارداد 2816 منظور کرتے ہوئے مانیٹرنگ ٹیم کے مینڈیٹ میں 12 ماہ کی توسیع کر دی ہے، جو افغانستان میں جڑ پکڑتے دہشت گرد نیٹ ورکس اور طالبان کی وعدہ خلافیوں پر عالمی مایوسی کی عکاسی کرتی ہے
تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ شیخ ہیبت اللہ اخونزادہ کی قیادت میں افغانستان کو انتہا پسند عسکری تحریکوں کے لیے ایک محفوظ نظریاتی مرکز میں تبدیل کیا جا رہا ہے، جہاں "مقدس جدوجہد" کے نام پر نوجوانوں کی منظم ذہن سازی کی جا رہی ہے
بدخشاں میں اسماعیلی شہری پر طالبان کمانڈر کے وحشیانہ تشدد کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد افغانستان میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق عالمی سطح پر تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے
افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور طالبان کے سخت گیر نظامِ حکومت نے ملک کو غیر ملکیوں اور مقامی شہریوں کے لیے غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ عالمی اداروں نے سیکورٹی خطرات اور انسانی حقوق کی پامالیوں پر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل 2025 کی رپورٹ میں افغانستان کی بدترین رینکنگ؛ عدالتی نظام کی کمزوری، احتسابی اداروں پر حکومتی غلبے اور بین الاقوامی نگرانی کے فقدان کو تنزلی کی بڑی وجوہات قرار دے دیا گیا
افغانستان کی سرحدی دخل اندازی اور دہشت گردی کے واقعات نے خطے میں خطرات بڑھا دیے ہیں، تاجکستان کو جدید ہتھیار فراہم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جبکہ طالبان حکومت دہشت گرد گروپوں کے لیے محفوظ ٹھکانہ بن چکی ہے
بدخشاں میں مبینہ بلیک میلنگ اور بھتہ خوری کیس میں قاری محمد عاصف پر ویڈیوز کے ذریعے رقوم وصول کرنے اور خاتون کو ہراساں کرنے کے الزامات سامنے آئے، بعد ازاں انہیں نئے قانون کے تحت رہا بھی کر دیا گیا
اقوام متحدہ کی رپورٹ میں افغانستان میں طالبان حکومت کے تحت اعلانیہ کوڑے مارنے، قید کی سزائیں اور خواتین پر پابندیوں کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس نے انسانی حقوق کے عالمی خدشات کو مزید اجاگر کر دیا ہے