خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
طالبان کی اندرونی سیاست میں مفادات، لوٹ مار اور طاقت کی کشمکش بنیادی کردار ادا کرتی ہے، جہاں قیادت کی اصل طاقت ذاتی مسلح گروہوں اور مالی وسائل سے جڑی رہی ہے۔ ملا ہیبت اللہ کے تقرر کے بعد یہ اندرونی توازن مزید واضح ہوا، جو مختلف دھڑوں کے درمیان اثر و رسوخ کی مسلسل جدوجہد کو نمایاں کرتا ہے
طالبان وزیر الحنفی نے یونیورسٹی تقریب میں مذہب کو ذاتی زندگی میں دباؤ اور سماجی کنٹرول کے آلے کے طور پر پیش کیا، جس سے مذہبی جبر اور نظریاتی حکمرانی کی عکاسی ہوتی ہے
دوہزار پچس کی ترک منشیات رپورٹ نے افغانستان کو عالمی منشیات تجارت کا مرکز قرار دیا ہے، جہاں افیون کے ساتھ ساتھ مصنوعی منشیات، خصوصاً میتھ ایمفیٹامین کی پیداوار اور اسمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے
افغانستان انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق یہ کارروائی ان شہریوں کے خلاف کی گئی جنہیں جرمن حکام نے ری لوکیشن پروگرام کے تحت قبول کر لیا تھا۔ طالبان اہلکاروں نے گیسٹ ہاؤس کو گھیرے میں لے کر رہائشیوں کی سخت تفتیش کی
سابق افغان انٹیلی جنس چیف رحمت اللہ نبیل نے دعویٰ کیا ہے کہ کابل دھماکے کی منصوبہ بندی پاکستان میں کی گئی تھی اور پاکستان میں داعش خراسان کا آپریشنل سینٹر موجود ہے، جسے پاکستانی اداروں کی حمایت حاصل ہے
اسی تناظر میں نورستان کے ایک ضلعی یا صوبائی گورنر کے قتل کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جسے مقامی ذرائع معدنی تنازع اور اندرونی کشمکش سے جوڑ رہے ہیں۔ اگرچہ طالبان حکام کی جانب سے اس قتل کی تفصیلات محدود رکھی گئی ہیں، تاہم یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ معدنی وسائل پر اختیار کی جنگ کس حد تک شدت اختیار کر چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جنوری 2022 میں ملا ہیبت اللہ نے ایک جامع پالیسی متعارف کروائی تھی، جس کے تحت ملک بھر کے تعلیمی اداروں، بشمول کابل یونیورسٹی، کا نصاب تبدیل کیا گیا۔ اس نئے نصاب کو طالبان کی سخت گیر، رجعت پسند اور مخصوص پشتون روایات سے ہم آہنگ کیا گیا، تاکہ ریاستی ڈھانچے پر مکمل نظریاتی گرفت قائم کی جا سکے۔
پاکستان کے سرحدی صوبوں میں جون 2025میں پاکستان کو دھوکہ دینے کی خاطر بظاہر ٹی ٹی پی کو روکنے کے لئے قائم کی گئی ٹاسک فورس جس کا سربراہ سابق گورنر خوست مولوی قاسم خالد کو بنایا گیا ہے ، وہ بھی ان بھرتیوں میں تعاون کر رہا ہے ۔ سورس کے مطابق منصوبہ بندی کے تحت پاکستان میں دہشت گردی میں افغان شہریوں کو پیچھے رکھتے ہوئے نئے بھرتی ہونےو الے پاکستانی شہریوں اور افغان مہاجرین کو فرنٹ پر رکھا جائے گا ، تاکہ یہ دعویٰ کیا جا سکے کہ طالبان نے افغان شہریوں کو دہشت گردی سے روک لیا ہے ۔