وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
حیرت انگیز طور پر ساتھ موجود ملا یعقوب اور برادر کو کسی نے کوئی توجہ نہیں دی ۔ خلاف معمول سراج حقانی نے بھی لوگوں کو اپنے جذبات کے اظہا رکا موقع دیا اور سکیورٹی والوں کے کہنے کے باوجود وہاں سے ہٹنے سے انکار کردیا ۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا کہ طاقت کے ذریعے مسلط کیا گیا استحکام، اس امن کا متبادل نہیں ہو سکتا جو سیاسی شمولیت، انسانی حقوق، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون سے جنم لیتا ہے۔ جب تک طالبان محض انکار کے بجائے قابلِ تصدیق اقدامات نہیں کرتے، افغانستان میں پائیدار امن ایک دور کی حقیقت ہی رہے گا۔
وزارت خارجہ نے افغان فریق کو دوٹوک انداز میں آگاہ کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع اور اپنے شہریوں کے تحفظ کا پورا حق محفوظ رکھتا ہے، اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے خلاف ہر ضروری اقدام اٹھائے گا۔
امریکی جریدے کی رپورٹ کے مطابق ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کی حکمتِ عملی اور طالبان کے مدارس میں نوجوان نسل کی جاری تربیت خطے اور عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں
برطانوی دفترِ خارجہ نے سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے شہریوں کو افغانستان کا سفر نہ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ غیر ملکیوں کو درپیش سنگین خطرات کے پیشِ نظر یہ انتباہ جاری کیا گیا
امریکی میگزین دی نیشنل انٹرسٹ کے مطابق طالبان کی تعلیمی اصلاحات نوجوان نسل کو نظریاتی تربیت فراہم کر رہی ہیں، جسکے نتیجے میں تنقیدی سوچ محدود اور عقیدتی اطاعت پروان چڑھ رہی ہے
رپورٹس کے مطابق جرمنی نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات بھی محدود کر دیے ہیں، جبکہ افغان طالبان پر دہشت گرد نیٹ ورکس کی سرپرستی کے الزامات نے عالمی برادری میں تشویش بڑھا دی ہے۔ جرمن حکومت کا مؤقف ہے کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے اب کوئی نئی انٹری ممکن نہیں۔
تاہم، یہ سخت لہجہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چند روز قبل کابل میں طالبان کے اعلیٰ مذہبی علما نے امیرِ طالبان ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے، ایک مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا جس میں واضح طور پر افغانوں کو ہدایت کی گئی کہ افغان سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ اس فتویٰ میں تحمل، ذمہ داری اور علاقائی امن پر زور دیا گیا تھا۔