وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا فیصلہ ملکی مفاد میں کیا گیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی پر سیاسی محاذ آرائی اور مذاکرات ناکام بنانے کا الزام بھی لگایا۔
غوزگڑھی سرحد پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ پر پاکستانی فورسز نے موثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے 4 طالبان اہلکار ہلاک کر دیے، فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے مولانا فضل الرحمٰن سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں کا موازنہ زمینی حقائق پر کرنے اور قومی سلامتی کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھنے کی اپیل کی ہے۔
خیبر پختونخوا کے 180 روزہ ایکشن پلان میں 27 محکموں کے لیے 206 اقدامات تجویز کیے گئے ہیں، جن میں صحت، تعلیم، سڑکوں، روزگار اور توانائی کے منصوبے شامل ہیں۔
اسلام آباد نے واضح کیا ہے کہ ملک کی سلامتی اور سرحدی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، اور پاکستان اپنے قومی مفادات کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
مبصرین کے مطابق، فرانس 24 کی یہ رپورٹ صحافتی توازن سے عاری ہے اور اس کا مقصد ایک قانونی انتظامی فیصلے کو بین الاقوامی تنازع کی صورت میں پیش کرنا ہے، جو نہ صرف صحافتی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پاکستان کے خلاف منفی بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق، “یہ بحالی بھارت کے افغانستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کی تجدید اور افغانستان کے مستقبل کی تعمیر میں تعاون کے جذبے کی علامت ہے۔”
ملا یعقوب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہم نہ تو کسی سرزمین کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور نہ ہی ایسے گروہوں کی حمایت کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں دہشت گردی پھیلائیں
رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ایک مربوط بین الاقوامی حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے تاکہ طالبان حکومت کو دہشت گرد گروہوں کی سرپرستی ختم کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔