شمالی یمن کے پہاڑوں سے ابھرنے والی حوثی تحریک آج علاقائی سیاست کا بااثر فریق بن چکی ہے۔ زیدی تاریخ، اندرونی محرومیوں اور بیرونی جنگوں نے اس گروہ کو کس طرح ایک بڑی عسکری قوت بنایا؟
کوہاٹ حملہ کے بعد متضاد دعووں نے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اجاگر کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کی روشنی میں ماہرین نے کالعدم گروہوں کے گٹھ جوڑ پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے صومالیہ کے ہم منصب سے ٹیلیفونک گفتگو میں علیحدگی پسند اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے افریقہ میں سفارتی تعلقات کو فروغ دینے اور صومالیہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا
واضح رہے کہ ماضی میں افغان سرزمین سے پاکستان میں چینی شہریوں کو متعدد مہلک حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے، جس کے باعث سکیورٹی انتظامات ایک اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات میں اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے اور عملی اقدامات پر اتفاق کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تنازعہ گزشتہ دو ہفتوں سے جاری ہے، جب قندھار سے آئے طالبان کمانڈروں نے طاقت کے زور پر مقامی لوگوں سے سونے کی کانیں چھین کر اپنے حامیوں کے حوالے کیں۔ بعد ازاں انہی کانوں پر چینی ماہرین کی مدد سے کام شروع کرایا گیا، جس پر مقامی آبادی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ انہیں نہ صرف بے دخل کیا گیا بلکہ کسی قسم کا معاوضہ بھی نہیں دیا گیا۔دو روز قبل بھی اسی علاقے میں مقامی لوگوں اور قندھاری گروپ کے درمیان شدید تصادم ہوا تھا، جس میں چھ افراد مارے گئے۔
دونوں فریقین نے پاک-چین دوطرفہ تعلقات کی مستحکم اور مستقبل کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی ٹو پارٹی روابط، علاقائی صورت حال اور سی پیک کے تحت جاری منصوبوں کا جائزہ لیا اور اس کے علاوہ سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کو بامقصد اور شایان شان انداز میں منانے پر اتفاق کیا گیا۔
معاون وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار چین کے سرکاری دورے پر روانہ ہو گئے ہیں تاکہ وزیرِ خارجہ وانگ یی کے ساتھ ساتویں پاک–چین وزرائے خارجہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کی مشترکہ صدارت کری
گزشتہ پانچ سالوں کے دوران یہاں پیداوار میں سالانہ اوسطاً 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس فیلڈ کی اضافی تیل کی پیداوار ملک بھر میں ہونے والے کل اضافے کا تقریباً 40 فیصد ہے
حالیہ عرصے میں ای ٹی آئی ایم/ای ٹی ایل ایف سے وابستہ شدت پسندوں کے ایک ڈرون حملے میں تاجکستان میں چینی ورکرز کو نشانہ بنایا گیا تھا، جس کے بعد بیجنگ نے علاقائی سطح پر ’’ٹرانس نیشنل دہشت گرد نیٹ ورکس‘‘ کی موجودگی اور ان کے بڑھتے خطرے کو غیر معمولی سنجیدگی سے اٹھایا ہے۔