Category: معیشت

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات سے ترقی کر رہی ہے

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔

نیویارک ٹائمز نے بارڈر پر پھنسے ٹرکوں، بند دوکانوں اور پریشان حال افغان تاجروں کی تصویریں تو نمایاں کیں، مگر یہ سوال کمزور پڑ گیا کہ پاکستان نے آخر بارڈر کنٹرول سخت کیوں کیے؟

نتالی بیکر کے مطابق، یہ شراکت داری پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گی، اور بلوچستان جیسے پسماندہ خطے میں انفراسٹرکچر اور روزگار فراہم کر کے معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔

تاہم مقامی تاجروں اور ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ روس اور دیگر راستوں سے تجارت نہ صرف مہنگی اور مشکل ہے بلکہ دیرپا بھی نہیں ہے اور جلد افغانستان کو دوبارہ پاکستان کی جانب رخ کرنا پڑے گا۔

قسط کے ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت ملے گی، درآمدات اور قرض کی ادائیگی آسان ہوگی جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسیلہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق استحکام اور قرض کی فراہمی کے باوجود، اصلاحات جاری رکھنا جیسے مالی نظم و ضبط، ٹیکس بنیاد کی توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور موسمیاتی لچک ناگزیر ہیں۔

ڈی ڈبلیو کی رپوٹس کے مطابق افغانستان میں ضروری ادویات کی شدید قلت ہے، بازاروں میں کھلے عام جعلی ادویات فروخت کی جارہی ہیں تاہم طالبان حکومت نے ان رپورٹس کی تردید کردی ہے

تجارتی سرگرمیوں میں تعطل کے سبب سامان کی ترسیل متاثر ہوئی، جس سے مارکیٹ میں اجناس کی کمی اور نتیجتاً قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

یو ایس ایف نے پاکستان کے 11 اضلاع میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، وائس کمیونیکیشن اور فائبر آپٹیکل نیٹ ورک کے لیے 13 ارب روپے مالیت کے 9 میگا پراجیکٹس کی منظوری دے دی