وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بلاول بھٹو کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں بلکہ مثبت پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات سے ترقی کر رہی ہے
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کے لیے آئی ایم ایف پروگرام کی تکمیل میں برطانیہ کی معاونت پر شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ حکومت ٹیکس اصلاحات، توانائی شعبے کی کارکردگی، سرکاری اداروں کی تنظیم نو، پبلک فنانس مینجمنٹ اور نجکاری جیسے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔
نیویارک ٹائمز نے بارڈر پر پھنسے ٹرکوں، بند دوکانوں اور پریشان حال افغان تاجروں کی تصویریں تو نمایاں کیں، مگر یہ سوال کمزور پڑ گیا کہ پاکستان نے آخر بارڈر کنٹرول سخت کیوں کیے؟
نتالی بیکر کے مطابق، یہ شراکت داری پاکستان اور امریکہ کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرے گی، اور بلوچستان جیسے پسماندہ خطے میں انفراسٹرکچر اور روزگار فراہم کر کے معاشی استحکام لانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
تاہم مقامی تاجروں اور ماہرین نے تصدیق کی ہے کہ روس اور دیگر راستوں سے تجارت نہ صرف مہنگی اور مشکل ہے بلکہ دیرپا بھی نہیں ہے اور جلد افغانستان کو دوبارہ پاکستان کی جانب رخ کرنا پڑے گا۔
قسط کے ملنے سے پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کو تقویت ملے گی، درآمدات اور قرض کی ادائیگی آسان ہوگی جبکہ موسمیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسیلہ بھی دستیاب ہوگا۔ تاہم، آئی ایم ایف کے مطابق استحکام اور قرض کی فراہمی کے باوجود، اصلاحات جاری رکھنا جیسے مالی نظم و ضبط، ٹیکس بنیاد کی توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات، توانائی شعبے کی بہتری اور موسمیاتی لچک ناگزیر ہیں۔
ڈی ڈبلیو کی رپوٹس کے مطابق افغانستان میں ضروری ادویات کی شدید قلت ہے، بازاروں میں کھلے عام جعلی ادویات فروخت کی جارہی ہیں تاہم طالبان حکومت نے ان رپورٹس کی تردید کردی ہے
یو ایس ایف نے پاکستان کے 11 اضلاع میں ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ، وائس کمیونیکیشن اور فائبر آپٹیکل نیٹ ورک کے لیے 13 ارب روپے مالیت کے 9 میگا پراجیکٹس کی منظوری دے دی