Category: معیشت

ایرانی صدر مسعود پزشکیان ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے، جہاں اعلیٰ قیادت نے ان کا استقبال کیا۔ دورے کا مقصد ثالثی کوششوں پر پاکستان کا شکریہ ادا کرنا ہے۔

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی جانب سے لاپتہ قرار دیا گیا یوسف نامی شخص بھارتی پراکسی فتنۃ الہندوستان کا سرگرم دہشت گرد نکلا، جو سکیورٹی فورسز پر حملے کے دوران مارا گیا ہے۔

پاکستان نے افغان حکومت کے زیرِ اثر ابلاغی ادارے المرصاد کے خیبر اور پشاور میں داعش کے مبینہ ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

پنجگور کے علاقے جیرک میں سکیورٹی فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے بھاری اسلحہ اور دھماکا خیز مواد برآمد کر کے دہشت گردی کی بڑی سازش ناکام بنا دی۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے کابل میں طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی گاڑی پر حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے 2 اہلکاروں کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے صوبہ بدخشان میں طالبان نے ترک النسل اقوام کی حمایت اور ہرات مظاہروں سے اظہارِ یکجہتی کے الزام میں ازبک ثقافتی کارکن مسعود تیمور کو گرفتار کر لیا۔

ترکمانستان کے صدر قربان قلی بردی محمدوف نے افغانستان کا دورہ کیا، اس موقع پر تاپی گیس پائپ لائن منصوبے کا جائزہ لیا

پٹرول کی قیمت میں 5 روپے 66 پیسے فی لیٹر کمی کر کے 263 روپے 2 پیسے فی لیٹر مقرر کردی گئی ہے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی کے بعد دونوں ممالک میں آج تجارت مکمل طور پر معطل ہے۔ طورخم، خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان سمیت تمام راستے تجارت اور آمد و رفت کیلئے مکمل طور پر بند ہیں۔

سعودی وفد کا پاکستان کا تاریخی دورہ، 20 سے 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا امکان

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر ملائیشیا پہنچ گئے۔ ملائیشیا پہنچنے پر وزیرِ اعظم کا شاندار استقبال کیا گیا

پروکٹر اینڈ گیمبل کے پاکستان انخلا پر ماہرین کا ردعمل: خوف زدہ ہونے کے بجائے معاشی اصلاحات پر توجہ مرکوز کی جائے

بلومبرگ اکنامکس کے مطابق، رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ سالانہ بنیاد پر 3.4 فیصد تک پہنچ گئی۔

ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کر دیا ہے۔

یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے اعتماد، معاشی پالیسیوں میں بہتری اور مالیاتی استحکام کے آثار کا عکاس ہے۔ مارکیٹ میں گزشتہ روز بھی تیزی کا رجحان برقرار رہا تھا

توانائی کے شعبے کے لیے 1.275 کھرب روپے کی فنانسنگ، گردشی قرضوں میں نمایاں کمی کی جانب بڑا قدم