پاکستان نے اطالبان حکومت کے زیرِ اثر کام کرنے والے ابلاغی ادارے المرصاد کی جانب سے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر، پشاور کے نواحی علاقوں اور متصل پہاڑی سلسلوں میں داعش خراسان کے مبینہ نیٹ ورک اور ٹھکانوں کی موجودگی کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے ایک مخصوص اور من گھڑت بیانیے کا حصہ قرار دیا ہے۔
سکیورٹی حکام نے اس یکطرفہ رپورٹ پر پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب دیتے ہوئے اسے کابل کا سکیورٹی خلا سے توجہ ہٹانے کا حربہ قرار دیا ہے۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق المرصاد نامی پلیٹ فارم کی آزادانہ اور صحافتی حیثیت شدید شکوک و شبہات کا شکار ہے، کیونکہ یہ ادارہ براہِ راست افغان طالبان کے احکامات اور مخصوص پالیسی کے تحت کام کرتا ہے۔
اس ابلاغی ذریعے کا بنیادی مقصد اپنے سرپرستوں کے سیاسی و دفاعی مفادات کا تحفظ کرنا اور سرحد پار بے بنیاد الزامات عائد کرنا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ایسے پراپیگنڈا سیل کی رپورٹ کو کسی بھی طور مستند یا حتمی حقیقت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔
یافتههای المرصاد نشان میدهد که مراکز مهم و پناهگاههای اصلی شاخهٔ خراسان داعش در ولسوالی خیبر در مناطق شنکو، قمبرخیل ونیز در نواحی کوهستانی سورغر و کمرغند مربوط تحصیلباره موقعیت دارند که تنها چند کیلومتربا حیاتآباد پشاور و سایر مراکز نظامی فاصله دارند. pic.twitter.com/eABOSEMCtd
— المرصاد دری (@almirsad_dari) June 22, 2026
عالمی رپورٹس کی گواہی
سکیورٹی حکام نے اس پراپیگنڈے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی رپورٹس، روس اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کے آزاد سکیورٹی تجزیے اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ داعش خراسان کے اصل مراکز، محفوظ ٹھکانے، تربیت گاہیں اور اعلیٰ قیادت افغان سرزمین پر موجود ہیں۔
عالمی برادری بارہا طالبان حکومت پر زور دے چکی ہے کہ وہ اپنی سر زمین کو دیگر ممالک کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ان مسلمہ عالمی حقائق کی موجودگی میں المرصاد کی جانب سے پاکستان کے قبائلی اضلاع کو مورد الزام ٹھہرانا منطق اور زمینی حقائق سے عاری ہے۔
قبائلی اضلاع میں خاتمہ
زمینی حقائق واضح کرتے ہیں کہ ضلع خیبر اور پشاور کے نواحی علاقے ماضی میں ضرور شدت پسندی سے متاثر رہے تھے، تاہم گزشتہ برسوں میں پاکستانی سکیورٹی فورسز کے مسلسل اور کامیاب آپریشنز کے نتیجے میں ان علاقوں سے دہشت گردوں کے منظم نیٹ ورکس اور انفراسٹرکچر کا مکمل خاتمہ کیا جا چکا ہے۔
موجودہ سکیورٹی صورتحال میں ریاستی اداروں کی سخت نگرانی کے باعث کسی بھی عسکری گروہ کے لیے پاکستان میں محفوظ ٹھکانے بنانا ناممکن ہو چکا ہے۔
پاکستان کا عزم
پاکستان خود کئی دہائیوں سے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا شکار رہا ہے اور اس ناسور کے خاتمے کے لیے پاکستان کے سیکیورٹی اداروں اور عوام نے بے پناہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز ملک بھر میں مسلسل انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے ذریعے کسی بھی ممکنہ خطرے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ہمہ وقت متحرک ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق المرصاد جیسے یکطرفہ ذرائع کی رپورٹس کا مقصد زمینی حقائق کی عکاسی کرنا نہیں بلکہ خطے میں انسدادِ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے عزم کو دھندلانا ہے، جس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دیکھیے: پاکستان میں مبینہ داعش ٹھکانوں کو ڈرون حملوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ مسترد