پاکستان نے سری لنکا کے 2022 کے معاشی بحران سے سبق حاصل کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے بجائے مالی استحکام اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تحفظ دینے کی پالیسی اپنائی ہے
معاشی ماہر پیٹر میکگوائر نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور سپلائی میں کمی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے
اگر عالمی قیمتوں کے مطابق فیصلہ کیا جاتا تو یٹرولیم مصنوعات میں تقریباً 110 روپے فی لیٹر تک اضافہ ہو سکتا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اضافہ 55 روپے فی لیٹر تک محدود رکھا گیا ہے۔
وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر معمولی حالات سے گزر رہا ہے اور پڑوسی خطوں میں پیدا ہونے والی صورتحال کے اثرات براہ راست پاکستان سمیت پورے خطے پر پڑ رہے ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے
دوسری جانب آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد عالمی منڈیاں شدید جھٹکے کے خطرے سے دوچارہیں امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے جواب میں ایران کی کارروائی کے سبب تیل قیمتیں 130 ڈالر فی بیرل تک جانے کا امکان ہے۔