وزارتِ اطلاعات و نشریات نے افغان طالبان کے سرحدی علاقوں میں مبینہ ڈرون کاروائیوں کے دعوؤں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والے افغان ڈرون کو پاک فضائیہ نے فوری طور پر ناکارہ بنا دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ ایران امریکہ معاہدے میں پاکستان کا ثالثی کردار تاریخی اہمیت رکھتا ہے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے۔
روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں شہریوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں کے نئے شواہد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی بھارتی خلاف ورزیوں کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے رجوع کرتے ہوئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا خصوصی خط کونسل کی صدر کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکہ نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے مالیاتی نیٹ ورک کے خلاف بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے متعدد افراد اور کمپنیوں پر نئی اقتصادی پابندیاں عائد کر کے ان کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔
ان سوالات کا باقاعدہ جواب جمع کرانے کے لیے بھارت کو دو ماہ کا وقت دیتے ہوئے 16 دسمبر کی تاریخ مقرر کی گئی تھی، تاہم 155 دن گزرنے کے باوجود بھارت نے کوئی ٹھوس جواب جمع نہیں کروایا۔
اگنی میزائل کی تکنیکی صلاحیتوں سے متعلق پوچھے گئے ہر سوال پر ان کا روایتی فلسفیانہ اور مبہم جواب سامنے آیا۔ میزائل کی رینج، اس کی درجہ بندی اور آپریشنل پیرامیٹرز کے بارے میں ٹھوس سائنسی حقائق بتانے کے بجائے وہ مسلسل اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دے کر چھپاتی رہیں، جو کہ پروگرام کی اندرونی خامیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
کسی بھی "جغرافیائی تباہی" کا نتیجہ یکطرفہ نہیں بلکہ "مکمل اور دوطرفہ" ہوگا، جو دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان تصادم کے سنگین خطرات کو ظاہر کرتا ہے۔ ترجمان نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی بھارت کے اس قسم کے جنگی حربوں اور جارحانہ بیانیے نے جنوبی ایشیا کو بارہا بحرانوں اور عدم استحکام کی طرف دھکیلا ہے۔
وفاقی وزیر عطاء تارڑ نے پاکستان کے خلاف بیرونِ ملک سے چلائی جانے والی منظم منفی مہم کو بے نقاب کر دیا ہے، جبکہ بھارتی میڈیا اینکر ارنب گوسوامی کو ریٹنگ کے لیے اخلاقی حدود پامال کرنے پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔
سابق انڈین آرمی چیف منوج نروانے نے پاکستان سے مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کے مسائل ایک جیسے ہیں اور عوامی سطح پر دوستی ہی تعلقات کی بہتری کا راستہ ہے۔
چند مخصوص طاقتیں اس پائیدار امن کی کوششوں سے ناراض ہیں۔ یہی طاقتیں اب اپنے پرانے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحرک ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات اسی سلسلے کی کڑی ہیں کیونکہ اتنے بڑے پیمانے کی کارروائیاں صرف افغانستان کے بس کی بات نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ بھارت اور اسرائیل جیسی عالمی طاقتوں کی منصوبہ بندی شامل ہے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے پہلگام واقعے کو بھارت کا خود ساختہ ’فالس فلیگ آپریشن‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت حقائق منظرِ عام پر آنے کے ڈر سے تحقیقات سے بھاگ رہا ہے اور اپنے داخلی بحرانوں کا الزام ہمیشہ پاکستان پر تھوپنے کی کوشش کرتا ہے۔