روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔
محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔
دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔
مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔
سیاسی و دفاعی ماہرین کے مطابق، عوامی ایکشن کمیٹی کا یہ مؤقف براہِ راست بھارتی بیانیے کو تقویت دیتا ہے، جو برسوں سے یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ "کشمیر تقسیم ہو چکا ہے"۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت آئندہ بجٹ میں آزاد کشمیر کے لیے 30 ارب روپے کے اضافی فنڈز فراہم کرے گی، جن میں 6 ارب بجلی سبسڈی، 3 ارب آٹا سبسڈی اور باقی ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص ہوں گے۔
وزیر اعظم نے ایکشن کمیٹی کے اراکین اور قیادت سے اپیل کی ہے کہ حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے تعاون کرے۔ کمیٹی اپنی سفارشات اور مجوزہ حل بلا تاخیر وزیراعظم آفس کو بھجوائے گی تاکہ مسائل کے فوری تدارک کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
وزیراعظم آزاد کشمیر پہلے ہی اس احتجاج اور عوامی ایکشن کمیٹی کے پیچھے بھارتی فنڈنگ کے شواہد کی موجودگی کا دعوی کر چکے ہیں اور حیران کن طور پر بھارتی وزیر خارجہ راج ناتھ سنگھ نے بھی اپنے ایک بیان میں اس چیز کا اشارہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر میں ایسی تحاریک کے پیچھے بھارت ملوث ہے۔
اتوار کی شام سے آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورک اور لینڈ لائن سروسز معطل ہیں، جس سے نہ صرف عام شہری بلکہ مقامی صحافی بھی متاثر ہو رہے ہیں۔