Category: اہم ترین

حوثی حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ دفاعی معاہدے کے تحت عسکری سربراہان کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔

شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں عمران خان کی ممکنہ منتقلی اور خصوصی تیاریوں سے متعلق مہر بخاری کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ثابت ہو گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے افغان شہریوں کی ہلاکت اور اسلحے کی منتقلی سے متعلق گردش کرنے والی رپورٹ من گھڑت اور بے بنیاد پراپیگنڈا ہے۔

مشاہد حسین کا دعویٰ تاریخی شواہد کے منافی ہے۔ پاکستان نے اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری کو تربیت نہیں دی۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ لانگ مارچ مؤخر کیے جانے تک پی ٹی آئی سے مذاکرات نہیں ہوسکتے، حکومت اور تحریک انصاف میں بیک ڈور رابطے جاری ہیں۔

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے منشور میں پاک افغان سرحد سے متعلق بیانیے پر سیاسی اور قانونی حلقوں میں شدید بحث چھڑ گئی ہے۔

سنٹرل کرم کے علاقے تاتنگ درہ میں فورسز نے کارروائی کر کے 4 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ اس کے علاوہ ایک مغوی ایس ایچ او کو بھی بازیاب کرا لیا گیا۔

گزشتہ روز حوثی ملیشیا کے حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے تھے۔ ان حملوں میں سعودی شہروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

افغانستان کے صوبہ خوست میں فائرنگ سے مولوی محمد ولی جاں ساجد ہلاک ہو گئے۔ علاقے میں مزاحمتی کارروائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

پاکستان نے 13 عالمی ممالک کی جانب سے دو ریاستی حل کی حمایت کا خیرمقدم کرتے ہوئے 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے حملے کی ویڈیو جاری کر دی ہے۔

دخشاں کے ضلع کوہستان راغ میں طالبان کے سکیورٹی کمانڈ مرکز پر راکٹ حملہ ہوا، جبکہ زیبک میں اے ایف ایف نے 4 طالبان اہلکار ہلاک اور 7 زخمی کرنے کا دعویٰ کیا۔

جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا میں دہشت گردوں نے فائرنگ کرکے قبائلی رہنما ملک نائب محمد محسود کو قتل کردیا۔ حملہ آور پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہوگئے۔

سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت 73 افراد زخمی ہوئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حملوں کی شدید مذمت کردی۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے متوقع احتجاج کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے تین رکنی لارجر بینچ تشکیل دے دیا، سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

آٹھ ستمبر 1965 کو جنگِ ستمبر شدت اختیار کر چکی تھی۔ لاہور، سیالکوٹ، کھیم کرن اور اصَل اُتر کے محاذوں پر شدید لڑائی ہوئی، جبکہ چاوِنڈہ میں بڑی بکتر بند جنگ جاری رہی۔