پاکستان نے پہلا مقامی شفافیت و احتساب انڈیکس (iTAP) جاری کردیا، جس کے مطابق 68٪ شہری رشوت عام سمجھتے ہیں مگر صرف 27٪ نے تجربہ کیا اور 67٪ نے بدعنوانی کا سامنا نہیں کیا، جس سے تصور اور حقیقت میں واضح فرق ظاہر ہوا
جنوبی وزیرستان کے زمچن میں ایف سی (ساؤتھ) کے کمانڈر کی زیر صدارت قبائلی رہنماؤں کے ساتھ جرگہ منعقد ہوا، جس میں خطے کی سلامتی، عوامی مسائل اور باہمی تعاون پر بات کی گئی
ہدایتکار ادیتیا دھر کی ایکشن فلم ’دھرندر 2: دی ریونج‘ کی پہلی جھلک جاری کر دی گئی ہے۔ فلم کے مرکزی کردار رنویر سنگھ خون میں لت پت اور سنسنی خیز ایکشن مناظر کے ساتھ دکھائی دے رہے ہیں
چین کے جدید اور پُراسرار ائیر ٹو ائیر میزائل پی ایل-17 کی پہلی جھلک منظر عام پر آ گئی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دنیا میں سب سے زیادہ رینج رکھنے والا میزائل ہو سکتا ہے
پاکستانی تجزیہ کاروں نے پاکستان پاکستان کے داخلی معاملات پر زلمے خلیل زاد کی مسلسل ٹویٹس پر شدید تنقید کی اور کہا کے زلمے خلیل زاد کا بیان یک طرفہ تاثر پر مبنی ہے اور پاکستان کے داخلی معاملات کی پیچیدگیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرتا ہے۔
عاصم افتخار نے اس اہم سائیڈ ایونٹ کے انعقاد اور دارالعجزہ ماڈل کی مؤثر پیشکش پر حکومتِ ترکی کا شکریہ ادا کیا، جبکہ قطر، ترکی اور آذربائیجان کی قیادت اور سماجی تحفظ کے شعبے میں خدمات کو بھی سراہا۔
بلوچستان کے مسئلے کو قومی سیاست میں سنجیدگی سے کبھی مرکزی موضوع نہیں بنایا گیا۔ یہ خطہ انتخابی وعدوں، پارلیمانی قراردادوں اور میڈیا کی بریکنگ نیوز تک محدود رہا۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی بڑی سیاسی جماعت نے بلوچستان کے لیے کوئی واضح، طویل المدت اور عوامی پالیسی تشکیل دی؟
جدید جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں، یہ بیانیے کے محاذ پر بھی لڑی جاتی ہیں۔ ایک لفظ عالمی ہمدردی کا رخ موڑ سکتا ہے، پابندیوں کو سوالیہ نشان بنا سکتا ہے اور دہشت گردی کو “قابلِ فہم غصہ” کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درست اصطلاحات کا استعمال صحافتی ذمہ داری ہے، نہ کہ ریاستی مؤقف کی حمایت یا مخالفت کا معاملہ۔
سیاسی معاملات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، انہیں حل کیا جا سکتا ہے مگر سیاسی بصیرت سے۔ تصادم اور ہیجان سے نہیں۔ تحریک انصاف کا مگر زیادہ رجحان دوسری سمت میں رہا۔ یہ نکتہ سمجھ نہ پانے کی وجہ سے وہ پہلے ہی بہت دور جا چکی ہے۔ مزید کتنا اور کہاں تک جانا چاہے گی؟
اس کتاب میں بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں کو جائز قرار دیا گیا؛ سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کی ذمہ داری کھلے عام قبول کی گئی۔ ضربِ عضب اور پاکستانی فوج کی سٹرائیکس کو سامراجی جارحیت کہا گیا، جبکہ پاکستانی فوج پر الزامات عائد کیے گئے۔
اس عالمی منظرنامے میں پاکستان کا کردار غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان ابتدا ہی سے فلسطینی کاز کا اصولی اور اخلاقی حامی رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ، او آئی سی اور دیگر عالمی فورمز پر پاکستان نے ہمیشہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، اسرائیلی جارحیت کی مذمت، اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔ غزہ پیس آف بورڈ کے تناظر میں بھی پاکستان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض علامتی حمایت پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس پلیٹ فارم کو بین الاقوامی قانون اور انصاف کے دائرے میں رکھنے کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کرے۔
’بورڈ آف پیس‘ میں پاکستان کی شمولیت محض اتفاقیہ نہیں ہے۔ مئی 2025 میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے بعد، اسلام آباد نے خود کو ایک ذمہ دار ’مڈل پاور‘ کے طور پر منوایا ہے. ایک ایسا ملک جو نہ صرف اپنی سلامتی کا دفاع جانتا ہے بلکہ خطے میں "نیٹ سکیورٹی پرووائیڈر" بننے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ واشنگٹن میں بھی اسٹریٹجک توازن بدلتا دکھائی دے رہا ہے۔
یہ ضابطہ دراصل افغانستان کے مستقبل پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیا قانون انسان کو عزت دینے کے لیے ہوتا ہے یا اسے مطیع بنانے کے لیے؟ کیا شریعت کا مقصد عدل، رحم اور مساوات ہے یا خوف، تفریق اور جبر؟ ایک اسلامی حکومت ہونے کا دعویٰ تبھی معتبر ہو سکتا ہے جب اس کے قوانین نہ صرف طاقت بلکہ اخلاقی جواز بھی رکھتے ہوں۔
خطبہ حجۃ الوداع میں نبی کریم ﷺ نے واضح الفاظ میں فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں، سوائے تقویٰ کے۔ علما کے مطابق اگر آج اسلام کے نام پر ایسے قوانین نافذ کیے جائیں جو انسانوں کے درمیان امتیاز کو فروغ دیں تو یہ نہ صرف اسلامی تعلیمات کی روح کے خلاف ہے بلکہ رسول اکرم ﷺ کے اس بنیادی پیغام کی بھی نفی ہے۔
سوال کے راستے میں کلٹ آ جائے تو مسافت طویل تو ہو سکتی ہے ، سفر ختم نہیں ہوتا۔ سوال منزل پر پہنچا اور اس نے ذہنوں پر دستک دی کہ اگر امریکہ ہی انہیں نکالنے کی سازش میں ملوث تھا تو اوورسیز انقلابی جن کے پاس امریکہ کی شہریت بھی ہے ، ایک آدھ مظاہرہ واشنگٹن یا نیو یارک میں امریکہ کے خلاف کیوں نہیں کر لیتے؟ ہیجان پیدا اکرنے کے لیے کیا پاکستان ہی آسان شکار نظر آتا ہے۔
شدت سے احساس ہوتا ہے کہ قائدین پاکستان نے بڑی دانشمندی کا مظاہرہ کیا اور الگ وطن بنا دیا ورنہ پاکستان کے پچیس کروڑ مسلمان بھی ہندوستان میں بری طرح پس رہے ہوتے۔
سچ یہ ہے کہ بی جے پی اور نریندر مودی جیسے لیڈروں نے نظریہ پاکستان اور قائداعظم کے ویژن کو عملاً درست ثابت کر دیا ہے۔ پاکستان میں اگر کسی کو معمولی سا شک بھی تھا تو پچھلے چند برسوں میں وہ دور ہوگیا۔