مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ، کویت سے نئے فوجی تعاون اور بنگلہ دیش کی ممکنہ شمولیت کے بعد پاکستان مسلم دنیا کے دفاعی اتحاد میں ایک اہم اور ابھرتا ہوا محور بن کر سامنے آیا ہے۔
مکین بازار میں آئی ای ڈی دھماکے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 9 افراد زخمی ہوئے، تاہم بعد ازاں امن کمیٹی رکن عنایت اللہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگئے۔
آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے ووٹنگ ہوئی جس میں بیرسٹر افتخار گیلانی کامیاب قرار پائے اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں اپنی حکومت مستحکم کر لی۔
کان کنی کے لیے بدخشاں جانے والے دو نوجوانوں کو طالبان فورسز نے مبینہ طور پر قتل کیا اور ان کی لاشیں عوامی مقامات پر نمائش کے لیے رکھ دیں۔ مقتولین کا کسی مزاحمتی گروپ سے تعلق نہیں تھا۔
سائبر سیکیورٹی پالیسیوں کے حوالے سے ماہرین نے نشاندہی کی کہ بھارت، سعودی عرب، بنگلہ دیش اور متحدہ عرب امارات پہلے ہی غیر منظور شدہ وی پی اینز کے استعمال پر سخت پابندیاں نافذ کر چکے ہیں۔
پاکستانی پاور لفٹر حسنین رضا نے کولمبو میں ہونے والی ورلڈ پاور لفٹنگ چیمپئن شپ 2025 میں 94 کلوگرام ماسٹر–2 کیٹیگری میں 570 کلوگرام مجموعی وزن اٹھا کر گولڈ میڈل اپنے نام کر لیا۔
پاکستان نے گزشتہ ہفتے ایران، سعودی عرب، مصر اور آذربائیجان کے وفود سے اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں، جن میں دفاع، تجارت اور علاقائی امن پر تبادلۂ خیال ہوا۔ ایران اور سعودی عرب کے قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام نے پاکستان کے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں
امارتِ اسلامیہ افغانستان اور پاکستان کے اعلیٰ سطحی وفود نے سعودیہ کی ثالثی میں مذاکرات شروع کیے، تاہم اختلافات کے باعث مذاکراتی عمل عارضی طور پر معطل کر دیا گیا
مصری وزیرِ خارجہ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے راولپنڈی میں ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون، عسکری تربیت اور خطے کے امن و استحکام پر تبادلہ خیال کیا
اسلام آباد کے تھانہ سبزی منڈی کی حدود میں فائرنگ کے واقعے میں شہید اے ایس آئی علی اکبر پر قاتلانہ حملے کا مرکزی ملزم اپنے ہی ساتھیوں کی گولی سے ہلاک ہو گیا
خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت ایک وفاقی آئینی عدالت قائم کی گئی ہے جو اہم آئینی مقدمات کی سماعت کرے گی۔ ترمیم کے مطابق اس عدالت کے ججوں کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق فیصلے اب حکومت کے اختیار میں ہوں گے۔
پاکستان نے افغان حکومت سے اس بات پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پاکستانی حکومت کا موقف ہے کہ "ہمیں افغان سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قبول نہیں، اور نہ ہی خون اور دہشت گردی کے ذریعے تجارتی روابط قائم کیے جا سکتے ہیں۔"