خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور ایران کو 10 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات کے لیے مدعو کیا ہے، جہاں 15 دن تک بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد جاری کشیدگی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنا اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان باضابطہ مذاکرات 10 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے، جسے پاکستان کی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں ایران سے بھی جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کیلئے کھولنے کی اپیل کی تھی، جبکہ تمام فریقین پر زور دیا تھا کہ وہ عارضی جنگ بندی پر آمادہ ہوں تاکہ مذاکرات کیلئے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔
ایران کی جانب سے مذاکرات سے انکار پاکستان سمیت دیگر ممالک کی جاری ثالثی کوششوں کیلئے بڑا دھچکا ہے، جبکہ خطے میں امن کی کوششیں پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو گئی ہیں۔
یہ مسودہ بحرین کی جانب سے پیش کیا گیا تھا اور اسے خلیجی ممالک اور مغربی طاقتوں کی حمایت حاصل تھی، تاہم روس اور چین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کی قرارداد خطے میں مزید کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کا جواز بن سکتی ہے۔
ٹرمپ اس سے قبل بھی ایران کو متعدد ڈیڈ لائنز دے چکے ہیں۔ 21 مارچ کو انہوں نے 48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا تھا، بصورت دیگر توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔
سعودی عرب کے صنعتی مرکز جبیل پر ایرانی حملہ پاکستان کی ثالثی کوششوں اور علاقائی استحکام کے خلاف ایک بڑی سازش ہے۔ پاک سعودی دفاعی معاہدے کے تحت یہ حملہ پاکستان پر حملے کے مترادف ہے، جس کے بعد امن عمل کے سبوتاژ ہونے کا سنگین خدشہ پیدا ہو گیا ہے
پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کے خلاف صیہونی پراپیگنڈا مشینری متحرک۔ امجد طہٰ کا پاکستان دشمن بیانیہ اور موساد کی تضحیک آمیز ٹویٹس دراصل ایک عالمی سازش کا حصہ ہیں