Category: عالمی خبریں

اسلام آباد میں اسپیکر سردار ایاز صادق کی میزبانی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور مشترکہ اعلامیہ تیار کر لیا گیا ہے۔

ہٹیاں بالا میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 8 اہم ارکان نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم سے مستقل لاتعلقی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔

بلیدہ میں نجی اسکول پر حملے، توڑ پھوڑ اور فائرنگ کے خلاف مقامی آبادی نے شدید احتجاج کیا، فورسز کی آمد پر حملہ آور فرار ہو گئے۔

وزیراعظم کے کوآرڈی نیٹر اختیار ولی کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی اور ٹی ٹی پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور صوبائی حکومت عوام کے بجائے خارجیوں کی نمائندگی کر رہی ہے۔

کے پی میں دہشتگردی اور منشیات کے مبینہ گٹھ جوڑ نے امن تباہ کر دیا۔ ایک دہائی سے اقتدار پر قابض پی ٹی آئی پولیس فورس کو جدید آلات دینے اور صوبے کو تحفظ فراہم کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔

افغانستان بھر میں مسلح مزاحمت کا دائرہ پھیل گیا ہے، جہاں طالبان کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی مراکز پر حملوں میں درجنوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔

اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی امن مذاکرات کے خلاف مخصوص حلقوں کے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مبصرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کردار کسی فریق کا چناؤ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

وزیراعظم شہباز شریف 15 سے 18 اپریل تک سعودی عرب، قطر اور ترکیے کے دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کو فون کر کے 'اسلام آباد مذاکرات' اور علاقائی امن کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور مکمل تعاون کا یقین دلایا

ٹرمپ نے گفتگو کے دوران پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مذاکرات کے حوالے سے “بہترین کام” کر رہے ہیں۔ ایران پہلے ہی پاکستان کو مذاکرات کے لئے فیورٹ قرار دے چکا ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں 'پاکستان کانفرنس 2026' کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار

تجزیہ کاروں کے مطابق جاری سفارتی عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اختلافات کے باوجود دونوں فریق مکمل تعطل کے بجائے کسی ممکنہ حل کی جانب بڑھنا چاہتے ہیں، جہاں پاکستان کا کردار ایک مؤثر ثالث کے طور پر نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ کا بیان فیصلہ کن ہے، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کی واحد وجہ ایران کا جوہری پروگرام پر مؤقف تھا۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، مگر ایران نے جوہری معاملے پر کوئی لچک نہیں دکھائی، جس کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔

ٹرمپ نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کی قیادت، خصوصاً وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی میزبانی اور کردار کو سراہا، اور کہا کہ مذاکرات تقریباً 20 گھنٹے جاری رہے۔

مذاکرات ایک پیچیدہ ماحول میں ہوئے جہاں بداعتمادی پہلے سے موجود تھی، اس لیے ایک ہی نشست میں معاہدہ ہونا ممکن نہیں تھا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات انتہائی حساس ہیں اور ان پر فوری اتفاق ممکن نہیں۔