سکیورٹی فورسز کی جانب سے فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کو بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق فورسز خوارج اور افغان طالبان کی پوسٹوں اور ان کے معاون انفراسٹرکچر کو کامیابی سے نشانہ بنا رہی ہیں تاکہ علاقے میں امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
افغانستان کے کروڑوں لوگ دو وقت کی روٹی کے محتاج ہیں، جبکہ حکمران اپنے شہریوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دینے اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ ٹی ٹی پی سے اس محبت کی بھاری قیمت افغان عوام کو اپنی معیشت، وقار اور مستقبل کی صورت میں چکانی پڑ رہی ہے۔
جب پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے پاس پہلے سے ہی کافی دفاعی ہتھیار موجود ہیں، تو پھر اتنے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کی کیا ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی خطرات کا بہانہ بنا کر بھارت دراصل پوری دنیا کو اپنے نشانے پر لانا چاہتا ہے
طالبان رجیم نے افغانستان کو ایک نظریاتی قید خانہ بنا دیا ہے، جہاں شہری بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ حکمران اپنے شہریوں کی حفاظت کرنے کے بجائے دہشت گرد تنظیموں کے مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں۔