پاکستان کے سرحدی علاقے چمن کے قریب افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان فورسز کی اس کارروائی کا مقصد فتنۃ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد عناصر کو فائرنگ کی آڑ میں سرحد پار کروانا اور پاکستان میں امن کو سبوتاژ کرنا تھا۔
جوابی کارروائی میں پاک فوج نے افغان فائرنگ کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا اور سرحدی سلامتی کو یقینی بنایا گیا۔ حکام نے واضح کیا کہ پاک افغان سرحد پر سکیورٹی انتہائی چوکس حالت میں برقرار ہے اور ہر قسم کی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس نوعیت کے واقعات ماضی میں بھی ہوتے رہے ہیں، جن کا بنیادی ہدف پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنا اور سرحدی علاقوں میں بدامنی کو فروغ دینا رہا ہے۔ حالیہ فائرنگ کو بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ سییورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسی بلااشتعال کارروائیاں نہ صرف علاقائی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں، بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی کے عمل کو بھی شدید نقصان پہنچاتی ہیں۔
پاکستانی حکام نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری اور سرحدی سالمیت کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کریں گے اور کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔