نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے دوران جہاں پاکستان نے افغان سرزمیں سے سرحد پار دہشت گردی کا معاملہ اٹھایا، چین نے بھی افغانستان کی صورتحال پر سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے چین کے مندوب نے واضح وارننگ دی ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد تنظیمیں اب بھی سرگرم ہیں، جو علاقائی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کے حوالے سے مسلسل تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
چینی مندوب نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ داعش، القاعدہ، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ، فتنۃ الخوارج اور فتنۃ الہندستان سمیت کئی خطرناک اور کالعدم دہشت گرد گروہ افغانستان میں بدستور سرگرم اور متحرک ہیں۔
China has warned the United Nations that multiple terrorist organizations continue to operate from Afghan territory, highlighting ongoing concerns over regional security and counterterrorism efforts.
— The Strategic Insight (@Strategicprism0) June 9, 2026
Addressing the UN, China's envoy stated that groups including ISIS, Al-Qaeda,… pic.twitter.com/FAYIUC6P7E
چینی مندوب کے مطابق یہ صورتحال اس بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تشویش کی عکاسی کرتی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی سے متعلق افغان طالبان کی تمام تر یقین دہانیوں کے باوجود افغان سرزمین اب بھی مختلف دہشت گرد نیٹ ورکس کے استعمال میں ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ خطے کے ممالک طویل عرصے سے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے آ رہے ہیں کہ ان دہشت گرد گروہوں کی مسلسل موجودگی اور محفوظ پناہ گاہیں وسیع تر خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے ایک سنگین اور بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔ عالمی برادری کو اس صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے خطے کو ان خطرات سے پاک کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔