چین کی بحریہ میں جنگی جہازوں کی تعداد 400 سے تجاوز کر گئی ہے، جس کے باعث عالمی سمندروں بالخصوص بحرالکاہل اور بحرہند کے خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ اس صورتحال نے امریکہ کے لیے بحری میدان میں ایک بڑا چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی اعداد و شمار کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سن 2020 سے اب تک چین نے 71 بڑے جنگی بحری جہاز اور جدید آبدوزیں اپنے بحری بیڑے میں شامل کی ہیں۔ ان نئی شمولیتوں کے بعد تعداد کے لحاظ سے چینی بحریہ امریکی بحریہ کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد بڑی ہو چکی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ جہازوں کی تعداد میں چین کو واضح برتری حاصل ہو چکی ہے، تاہم مجموعی وزن اور بحری بیڑے کی کل گنجائش کے اعتبار سے امریکی بحریہ اب بھی دنیا میں پہلے نمبر پر برقرار ہے۔
چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی جہاز سازی کی صنعت اور جدید ترین صلاحیتیں بحری میدان میں امریکہ کی روایتی برتری کے لیے کھلم کھلا چیلنج بن چکی ہیں، جس سے خطے کی جیوسیاسی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دیکھیے: انڈونیشیا: ایک ہی ماہ میں ہزاروں اموات، آخر وجہ کیا بنی؟





