اسلام آباد: برطانوی اخبار ‘دی ٹائمز’ کی سینئر غیر ملکی نامہ نگار کرسٹینا لیمب کی جانب سے پاکستان کے ویزا قوانین اور صحافتی ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی کا معاملہ اس وقت میڈیا اور سفارتی حلقوں میں شدید بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ زیرِ گردش ویزا دستاویزات کے مطابق، انہیں صرف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے 7 دن کا سنگل انٹری ویزا جاری کیا گیا تھا، جو کہ کسی بھی طور پر سیاسی یا صحافتی رپورٹنگ کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
میڈیا ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ پاکستان پر تنقید کا نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ طریقہ کار اور قانون کا ہے۔ پاکستان میں غیر ملکی صحافیوں کے لیے ایک واضح اور باضابطہ ویزا اور ایکریڈیٹیشن کا راستہ موجود ہے۔ اگر ایک سینئر صحافی نے کانفرنس ویزے کی آڑ میں سیاسی اسٹوری تیار کی ہے، تو یہ محض کاغذات کی چھوٹی غلطی نہیں، بلکہ پیشہ ورانہ دیانت، شفافیت اور میزبان ملک کے قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
اس معاملے پر اب ‘دی ٹائمز’ اور کرسٹینا لیمب سے باضابطہ وضاحت کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ کیا انہوں نے پاکستان آمد پر اپنے صحافتی کام کا اعلان کیا تھا اور کیا متعلقہ قوانین کے تحت صحافتی ویزا حاصل کیا تھا؟ جو میڈیا کلاس دنیا بھر کو شفافیت پر لیکچر دیتی ہے، اسے خود بھی انہی معیارات پر پورا اترنا چاہیے۔ ایک مقصد کے لیے ویزا لے کر دوسرے مقصد کے لیے کام کرنا نہ صرف غیر اخلاقی ہے، بلکہ یہ ان تمام غیر ملکی صحافیوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہے جو پاکستان کے قوانین کا مکمل احترام کرتے ہیں۔