بھارت میں امتحانی پرچوں کے مسلسل لیک ہونے اور بڑھتی ہوئی بیروزگاری کے خلاف نوجوانوں کی طنزیہ تحریک کاکروچ جنتا پارٹی اب مودی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن کر ابھر رہی ہے۔ عالمی ماہرین اور بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ہندوتوا کی سیاست میں الجھی بی جے پی سرکار اس وقت اپنا اقتدار بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہے جبکہ عوامی مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے ہیں۔
تحریک کی مقبولیت
عالمی جریدے ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق مودی حکومت کی کارکردگی سے مایوس بھارتی نوجوان کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم پر تیزی سے منظم ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ نوجوانوں کی یہ تحریک اب سری لنکا اور بنگلہ دیش جیسے بڑے عوامی انقلاب کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جو مستقبل میں مودی سرکار کے اقتدار کی بنیادیں ہلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
وزیر تعلیم سے مطالبہ
کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ہزاروں نوجوان سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے ہیں۔ تحریک نے امتحانی پرچوں کے مسلسل آؤٹ ہونے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مودی کے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔
نوجوانوں نے ایک 5 نکاتی تعلیمی منشور بھی پیش کیا ہے، جس میں پرچہ لیک ہونے کی صورت میں متاثرہ طلبہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ شامل ہے۔
عالمی ماہرین کا تجزیہ
دفاعی اور سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہا پسند بی جے پی کے دورِ حکومت میں کروڑوں بھارتی نوجوان بیروزگاری کے باعث مایوسی کا شکار ہیں۔
حکومت روزگار کی فراہمی اور تعلیمی نظام کی اصلاح کے بجائے مذہبی سیاست کو فروغ دے رہی ہے، جس نے نوجوانوں کو مودی حکومت کے خلاف ایک بڑی علامتی جماعت بنانے پر مجبور کر دیا۔
دیکھیے: طالبان کے جابرانہ قوانین کے خلاف یورپ اور کینیڈا میں احتجاج، سفارتی بائیکاٹ کا مطالبہ