استنبول: ترکیہ کے شہر کہرامان مرعش میں اسکول پر فائرنگ کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 10 ہو گئی ہے، جبکہ یہ ملک میں دو دن کے اندر دوسرا ایسا واقعہ ہے جس نے سکیورٹی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں میں سے ایک شخص اسپتال میں دم توڑ گیا جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ فائرنگ کے واقعے میں ایک استاد اور متعدد طلبہ جاں بحق ہوئے جبکہ 13 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق 14 سالہ طالب علم نے اسکول کی دو کلاسوں میں گھس کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ حملہ آور نے اپنے والد کے اسلحہ کا استعمال کیا، جو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر ہیں، اور واقعے کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
یہ واقعہ ایک دن قبل ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا، جہاں شانلی عرفہ میں ایک سابق طالب علم کی فائرنگ سے 16 افراد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے بعد ازاں خودکشی کر لی تھی جبکہ اس واقعے کے حوالے سے متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں واقعات کے بعد ملک بھر میں اسکول سکیورٹی کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں وزرائے داخلہ و تعلیم، صوبائی گورنرز اور پولیس حکام نے شرکت کی۔
ماہرین کے مطابق ترکیہ میں اس نوعیت کے واقعات شاذ و نادر ہوتے ہیں، تاہم حالیہ مسلسل حملوں نے تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔