ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہی
انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان(ریاست فتنہ الخوارج) قرار دیتی ہے، اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان سے سہولت، تربیت، پناہ اور بعض معاملات میں اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات، انٹیلی جنس معلومات اور دیگر شواہد موجود ہیں جو اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا افغان حکام سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور پاکستان مخالف گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ ہونے دیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں بھارت، آر ایس ایس اور افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے تعاون سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز اب ان عناصر کے خلاف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہری، پولیس، ترقیاتی منصوبے، مزدور، کنٹریکٹرز اور بلوچستان کی معیشت ہے، تاکہ خوف و ہراس پھیلا کر ترقی کا عمل روکا جا سکے۔ ان کے مطابق حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔
خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، بشمول ہنگو، سوات اور بنوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام گاہے بگاہے یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ صوبے میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو سرحد پار سے استعمال ہونے والی سہولت کاری اور پناہ گاہوں تک رسائی حاصل ہے، جو مجموعی طور پر افغان سرزمین سے دہشت گردی کی مسلسل شکایات کا حصہ ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور توقع رکھتا ہے کہ طالبان رجیم اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال سے روکے گی، کیونکہ دونوں ممالک کے امن اور استحکام کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔
دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک