لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

پاکستان میں دہشت گردی کو افغان سرزمین سے پشت پناہی حاصل ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہیں۔
پاکستان میں دہشت گردی میں افغان سرزمین ملوث ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ فتنہ الخوارج سمیت دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سہولت اور تربیت حاصل کرتی ہیں، پاکستان افغان حکومت سے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

July 31, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس ایسے ٹھوس شواہد موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہی

انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان(ریاست فتنہ الخوارج) قرار دیتی ہے، اور دیگر دہشت گرد گروہ افغانستان سے سہولت، تربیت، پناہ اور بعض معاملات میں اسلحہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے پاس گرفتار دہشت گردوں کے اعترافات، انٹیلی جنس معلومات اور دیگر شواہد موجود ہیں جو اس مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان بارہا افغان حکام سے مطالبہ کر چکا ہے کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کریں اور پاکستان مخالف گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ ہونے دیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج اور بلوچستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں بھارت، آر ایس ایس اور افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر کے تعاون سے پاکستان میں کارروائیاں کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق سکیورٹی فورسز اب ان عناصر کے خلاف دفاعی نہیں بلکہ جارحانہ حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا اصل ہدف سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ عام شہری، پولیس، ترقیاتی منصوبے، مزدور، کنٹریکٹرز اور بلوچستان کی معیشت ہے، تاکہ خوف و ہراس پھیلا کر ترقی کا عمل روکا جا سکے۔ ان کے مطابق حملوں کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر منظم انداز میں پھیلائی جاتی ہیں تاکہ ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیا جا سکے۔

خیال رہے کہ حالیہ عرصے میں خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع، بشمول ہنگو، سوات اور بنوں میں بھی دہشت گردی کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ سکیورٹی حکام گاہے بگاہے یہ مؤقف دہراتے رہے ہیں کہ صوبے میں سرگرم عسکریت پسند گروہوں کو سرحد پار سے استعمال ہونے والی سہولت کاری اور پناہ گاہوں تک رسائی حاصل ہے، جو مجموعی طور پر افغان سرزمین سے دہشت گردی کی مسلسل شکایات کا حصہ ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے اور توقع رکھتا ہے کہ طالبان رجیم اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال سے روکے گی، کیونکہ دونوں ممالک کے امن اور استحکام کے لیے دہشت گردی کا خاتمہ ناگزیر ہے۔

دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *