آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف چوہدری نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے ایک بیان سے متعلق سوال کے جواب میں کہا ہے کہ یہ وزیرِ داخلہ کی ذاتی رائے ہے، اس لیے پاک فوج اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔
صحافی کا سوال
اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے محسن نقوی کے بیان سے متعلق سوال کیا۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: یہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے، ہم اس پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ادارہ اپنے دائرۂ اختیار میں اپنا مؤقف پیش کرتا ہے، جبکہ پاک فوج کا مؤقف وہی ہوتا ہے جو ادارے کی جانب سے باضابطہ طور پر پیش کیا جائے۔ اس کے بعد انہوں نے اس موضوع پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا اور دیگر سوالات کے جوابات دیتے رہے۔
گڈ گورننس ناگزیر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی کے لیے گڈ گورننس انتہائی اہم ہے۔ ان کے مطابق گڈ گورننس کے بغیر ملک کے معاملات نہیں چل سکتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر مسائل حل نہیں ہو رہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گڈ گورننس کے لیے کچھ ٹھوس اقدامات کرنے پڑیں گے۔
آبادی میں چار گنا اضافہ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1972 میں پاکستان کی آبادی 7.8 کروڑ تھی، جبکہ آج یہ 25 کروڑ تک پہنچ چکی ہے۔ ان کے مطابق اس بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ملک کو نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ آبادی چار گنا بڑھ چکی ہے، مگر ملک میں وہی چار صوبے موجود ہیں، اس لیے اس تناسب پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔
دیکھیے: سوات اور ہنگو میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 21 دہشت گرد ہلاک