خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ میں دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کے افغان دارالحکومت کابل سے براہِ راست رابطوں کے ٹھوس شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ اس پیش رفت نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ افغان سرزمین بدستور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر درازندہ حملے میں شامل دہشت گردوں کی ایک تصویر جاری کی گئی ہے۔ اس تصویر میں اگلی صف میں دائیں جانب سے دوسرے نمبر پر موجود شخص کی شناخت قاری کے نام سے ہوئی ہے۔
A photograph is being circulated on TTP linked accounts of the terrorists who carried out attack in Darazinda, DI Khan.
— Maximus47 (@eavesdropper73) September 27, 2026
One of the attacker, second from the right in front row is named as Qari.
Pictures of this individual are available on social media, taken in Kabul.
Here is one… pic.twitter.com/LooNb1kbcg
تحقیقات کے دوران اسی حملہ آور کی کابل میں لی گئی دیگر تصاویر بھی سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔ ان میں سے ایک تصویر افغان دارالحکومت کے معروف مقام پشتونستان اسکوائر کے سامنے کھینچی گئی ہے، جہاں یہ دہشت گرد مکمل آزادی کے ساتھ موجود دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ شواہد ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملے کرنے والے دہشت گرد افغانستان میں باقاعدہ پناہ گاہیں اور سہولت کاری حاصل کر رہے ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے دعووں کے برعکس عملی صورتِ حال یکسر مختلف ہے۔