"> انسانی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق اقدامات پر یورپی یونین نے پاکستان کی کارکردگی سراہا - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

انسانی حقوق اور اقلیتوں سے متعلق اقدامات پر یورپی یونین نے پاکستان کی کارکردگی سراہا

یورپی یونین نے انسانی حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر پاکستان کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے سزائے موت، تشدد کی روک تھام، اظہارِ رائے کی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ جیسے بنیادی انسانی حقوق کے شعبوں میں اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا
یورپی یونین نے جی ایس پی پلس کے تحت انسانی حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر پاکستان کی پیش رفت کو سراہتے ہوئے سزائے موت، تشدد کی روک تھام، اظہارِ رائے کی آزادی، اقلیتوں کے تحفظ اور عدالتی خودمختاری جیسے بنیادی انسانی حقوق کے شعبوں میں اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا

مشترکہ کمیشن اجلاس میں انسانی حقوق کے قومی ایکشن پلانز اور متعلقہ ادارہ جاتی اقدامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے جبکہ جی ایس پی پلس کی مدت 2027 تک بڑھانے کی توثیق کی گئی

December 23, 2025

یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس کے تحت 27 بین الاقوامی کنونشنز کے نفاذ میں پیش رفت کو سراہا۔ خیال رہےکہ یہ کنونشنز انسانی حقوق، مزدور حقوق، شفاف حکمرانی اور ماحولیاتی تحفظ کے شعبوں سے متعلق ہیں۔

یورپی یونین کے مطابق جی ایس پی+ کی حیثیت ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک خصوصی مراعاتی اسکیم ہے جس کا مقصد پائیدار ترقی اور بہتر حکمرانی کی ترغیب دینا ہے۔ اس اسکیم کے تحت پاکستان کی دو تہائی برآمدات کو یورپی یونین میں محصول سے آزاد رسائی حاصل ہے۔

دفترِ خارجہ کے بیان کے مطابق پندرہویں پاکستان اور یورپی یونین کی مشترکہ کمیشن کی میٹنگ 17 دسمبر کو برسلز میں منعقد ہوئی، جس میں اسلام آباد اور یورپی یونین کے درمیان متعدد شعبوں میں تعاون اور پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر پاکستان کی 27 بین الاقوامی کنونشنز پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ نائب وزیرِاعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے یکم دسمبر کو جمہوریت، حکمرانی، قانون کی بالادستی اور انسانی حقوق کے ذیلی گروپ کی میٹنگ میں بھی شرکت کی۔

بیان میں کہا گیا کہ یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے سزائے موت کے نفاذ کو بین الاقوامی معیار کے مطابق لانے اور تشدد و بدسلوکی کے خلاف ابتدائی اقدامات کو سراہا۔ اقلیتوں کے لیے کمیشن کے قیام کو بھی پیش رفت کے طور پر تسلیم کیا گیا۔

یورپی یونین نے پاکستان پر توجہ دلائی کہ اگلے جی ایس پی+ مانیٹرنگ رپورٹ سے قبل فوری اقدامات کو تیز کیا جائے اور انسانی حقوق اور حکمرانی میں اصلاحات کو جاری رکھا جائے۔ اجلاس میں اظہارِ رائے اور میڈیا کی آزادی، زبردستی لاپتہ افراد، عدالتی خودمختاری، مذہبی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق پر بھی تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستان نے یورپی یونین کو انسانی حقوق پر قومی ایکشن پلانز کے تحت پیش رفت سے آگاہ کیا اور ملک میں انسانی حقوق کے فروغ و تحفظ کے لیے مختلف قومی اداروں کے اقدامات کی تفصیل دی۔ یورپی یونین نے پاکستان کی جانب سے خواتین، بچوں، اقلیتوں، مزدوروں اور تارکین وطن کے حقوق، اور اظہارِ رائے کی آزادی کے تحفظ کی کوششوں کی حمایت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔

پاکستان کو جی ایس پی+ کی حیثیت 2014 میں دی گئی تھی، جس کے بعد پاکستانی ٹیکسٹائل برآمدات میں 108 فیصد اضافہ ہوا۔ اکتوبر 2023 میں یورپی پارلیمنٹ نے ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان، کے لیے جی ایس پی+ کی مدت مزید چار سال یعنی 2027 تک بڑھانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔

یورپی یونین کے GSP کنونشن کمپلائنس ڈیٹا کے مطابق پاکستان نے 27 بین الاقوامی کنونشنز کی توثیق کر دی ہے جن میں سب سے حالیہ بین الاقوامی سول و سیاسی حقوق کا کنونشن (1976) اور تشدد یا غیر انسانی سلوک کے خلاف کنونشن (1987) شامل ہیں۔

یورپی یونین نے پاکستان کے مانیٹرنگ میں 13 اہم شعبوں کو ترجیح دی، جن میں زبردستی لاپتہ افراد، تشدد کی روک تھام، اظہارِ رائے اور عقیدہ کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق شامل ہیں۔ نومبر میں یورپی یونین کے سفیر پاکستان رائمونڈس کاروبلس نے کہا تھا کہ پاکستان کو GSP+ کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

سفیر نے واضح کیا کہ یہ ایک وقتی نگرانی مشن ہوگا جو تمام ضروری اقوامِ متحدہ کنونشنز کے نفاذ کا جائزہ لے گا تاکہ اسکیم کے تقاضوں کی تصدیق کی جا سکے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *