وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور دہشت گردانہ حملوں کے تناظر میں آئینی اقدامات کرتے ہوئے صوبے میں گورنر راج نافذ کر دیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 234 اور 232 کے تحت صوبے کے 12 حساس اضلاع میں ہنگامی حالت (ایمرجنسی) نافذ کی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی سکیورٹی ناکامیوں کو قرار دیا گیا ہے۔
یہ اقدام وفاقی حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کی زیرِ قیادت صوبائی انتظامیہ کے درمیان سکیورٹی ترجیحات پر مسلسل عدم تعاون کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ ممتاز تجزیہ کار ڈاکٹر احمد خان کے مطابق اس قدم کا مقصد کوئی سیاسی انتقام نہیں، بلکہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنا اور شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
صوبے میں انتظامی خلا کو پُر کرنے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے انجینئر شوکت اللہ کی سربراہی میں 24 رکنی علاقائی نمائندہ و ترقیاتی کونسل قائم کر دی گئی ہے۔ یہ کونسل متاثرہ اضلاع میں مقامی سطح پر نمائندگی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔
نئی قائم کردہ کونسل سکیورٹی اداروں اور سول انتظامیہ کے درمیان مربوط حکمتِ عملی کو فروغ دے گی۔ اس اقدام سے نہ صرف امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئے گی، بلکہ معطل شدہ ترقیاتی سرگرمیوں کو دوبارہ بحال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔





