فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور سامان چھیننے کے واقعات پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اسے وسائل کے تحفظ کا نام دینا مسلح لوٹ مار اور بھتہ خوری کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
تجارتی گاڑیوں پر حملوں سے تاجروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو براہِ راست نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے واقعات سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ محنت کش خاندانوں کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔
بلوچستان میں شاہراہوں اور پلوں کو نقصان پہنچانا بھی مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ آمدورفت متاثر ہونے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل، تجارت اور کاروباری سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں۔
دہشت گرد عناصر کی جانب سے نام نہاد ’’اقتصادی محاصرے‘‘ کا دعویٰ بھی تنقید کی زد میں ہے۔ مبصرین کے مطابق سڑکیں بند کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو روکنا دراصل مقامی آبادی پر معاشی دباؤ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔
تجارتی سامان لوٹ کر اسے عوام میں تقسیم کرنے کا دعویٰ بھی اس عمل کی نوعیت تبدیل نہیں کرتا۔ چوری اور مسلح لوٹ مار کو عوامی خدمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
بلوچستان کے عوام پہلے ہی دہشت گردی کے باعث جانی و مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حملوں سے صوبے میں سرمایہ کاری، تجارت، روزگار اور ترقی کی سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
دہشت گردی کے ذریعے وسائل، تجارت اور شاہراہوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بالآخر عام شہریوں کو ہی متاثر کرتی ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے امن، محفوظ آمدورفت اور مستحکم کاروباری ماحول بنیادی ضرورت ہیں۔