"> فتنہ الہندوستان کا وسائل کے تحفظ کا ڈھونگ
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

تجارتی گاڑیوں پر حملے، فتنہ الہندوستان کی دہشت گردی سے بلوچستان کی معیشت متاثر

فتنہ الہندوستان کے نام نہاد وسائل کے تحفظ کے دعوے پر سوالات، تجارتی گاڑیوں پر حملوں اور لوٹ مار سے بلوچستان کی معیشت متاثر۔
فتنہ الہندوستان کا وسائل کے تحفظ کا ڈھونگ

تجارتی گاڑیوں پر حملوں اور شاہراہوں کی بندش سے بلوچستان کی تجارت، روزگار اور مقامی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

August 24, 2026

فتنہ الہندوستان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی جانب سے تجارتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے اور سامان چھیننے کے واقعات پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق اسے وسائل کے تحفظ کا نام دینا مسلح لوٹ مار اور بھتہ خوری کو جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔

تجارتی گاڑیوں پر حملوں سے تاجروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کو براہِ راست نقصان پہنچتا ہے۔ ایسے واقعات سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ محنت کش خاندانوں کے روزگار کو بھی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔

بلوچستان میں شاہراہوں اور پلوں کو نقصان پہنچانا بھی مقامی آبادی کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔ آمدورفت متاثر ہونے سے اشیائے ضروریہ کی ترسیل، تجارت اور کاروباری سرگرمیاں سست پڑ سکتی ہیں۔

دہشت گرد عناصر کی جانب سے نام نہاد ’’اقتصادی محاصرے‘‘ کا دعویٰ بھی تنقید کی زد میں ہے۔ مبصرین کے مطابق سڑکیں بند کرنا اور تجارتی سرگرمیوں کو روکنا دراصل مقامی آبادی پر معاشی دباؤ بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔

تجارتی سامان لوٹ کر اسے عوام میں تقسیم کرنے کا دعویٰ بھی اس عمل کی نوعیت تبدیل نہیں کرتا۔ چوری اور مسلح لوٹ مار کو عوامی خدمت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

بلوچستان کے عوام پہلے ہی دہشت گردی کے باعث جانی و مالی نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایسے حملوں سے صوبے میں سرمایہ کاری، تجارت، روزگار اور ترقی کی سرگرمیاں مزید متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔

دہشت گردی کے ذریعے وسائل، تجارت اور شاہراہوں پر دباؤ ڈالنے کی کوششیں بالآخر عام شہریوں کو ہی متاثر کرتی ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کے لیے امن، محفوظ آمدورفت اور مستحکم کاروباری ماحول بنیادی ضرورت ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *