اسلام آباد: پاکستان کے معتبر سفارتی ذرائع نے افغان میڈیا کی ان رپورٹس کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ان کی سخت ترین الفاظ میں تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان اور کابل کی طالبان حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہونے والا ہے۔ ذرائع نے واشگاف الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اس وقت پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان کسی بھی قسم کی ملاقات یا مذاکرات کا کوئی شیڈول طے نہیں ہے۔
افغان میڈیا اور دعوے
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان میڈیا کی جانب سے یہ گمراہ کن افواہیں پھیلائی جا رہی تھیں کہ کابل بہت جلد پاکستان اور افغان طالبان حکومت کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے ایک نئے دور کی ميزبانی کرنے جا رہا ہے۔ حکام نے واضح کیا کہ ان رپورٹس میں کوئی صداقت نہیں ہے اور اسلام آباد کی جانب سے کابل میں طالبان کے ساتھ کسی بھی نئے مذاکراتی عمل کی کوئی تصدیق یا تائید نہیں کی گئی ہے۔

کابل کے لیے وفد
ذرائع نے یہ بات بھی حتمی طور پر بتائی ہے کہ پاکستان کی جانب سے اس نوعیت کے مباحثوں یا رابطوں کے لیے افغانستان میں اپنا کوئی وفد بھیجنے کا کوئی موجودہ پلان یا ارادہ نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس میں پاکستانی وفد کی کابل آمد سے متعلق کیے جانے والے تمام دعوے حقیقت سے عاری ہیں۔
سفارتی تناؤ
یہ رپورٹس ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات کے باعث تعلقات شدید ترین تناؤ کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں ہونے والے مذاکرات کا محور بنیادی طور پر افغان سرزمین پر موجود کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گرد عناصر کا معاملہ رہا ہے، جس پر افغان انتظامیہ کی جانب سے کوئی مثبت پیش رفت نہیں دکھائی گئی۔
پاکستان کا مطالبہ
پاکستان نے ہمیشہ افغان طالبان حکومت سے یہ متبادل اور دوٹوک مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمیں پر موجود مسلح دہشت گرد گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اور ٹھوس کارروائی کرے اور افغان مٹی کو سرحد پار پاکستان پر حملوں کے لیے استعمال ہونے سے سختی سے روکے۔ پاکستانی حکام اس تشویشناک حقیقت کا متعدد بار اظہار کر چکے ہیں کہ 2021 میں افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردانہ حملوں میں انتہائی خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔
آپریشنز کا تسلسل
سفارتی ذرائع نے اشارہ دیا ہے کہ ماضی میں ہونے والے مذاکرات کسی بھی منطقی نتیجے پر پہنچنے یا نمایاں پیش رفت حاصل کرنے میں اس لیے ناکام رہے کیونکہ افغان طالبان کی جانب سے مسلح دہشت گرد گروہوں کے خاتمے کے حوالے سے کوئی واضح اور قابلِ اعتماد ضمانتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، پاکستان کی سیکیورٹی فورسز سرحدی علاقوں کی حفاظت اور دہشت گردی کے خطرات کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے ملک بھر میں اپنے وسیع پیمانے کے سیکیورٹی آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں۔