سابق افغان اسپیشل فورسز کے کمانڈر جنرل فرید احمدی نے کہا ہے کہ بدخشاں کی آزادی افغانستان میں جلاوطن حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق افغانستان فریڈم فرنٹ اور طالبان حکومت کے درمیان بڑھتی جھڑپیں اس تصور کو سیاسی حقیقت میں بدل سکتی ہیں۔
احمدی نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ بدخشاں کی موجودہ صورت حال افغان مزاحمت کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مزاحمت کا پھیلاؤ طالبان حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔
بدخشاں میں افغانستان فریڈم فرنٹ کی سرگرمیوں میں اضافے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ احمدی کے مطابق زیباک سمیت مختلف علاقوں میں مزاحمتی کارروائیاں طالبان حکومت کی جانب سے کنٹرول مضبوط کرنے کی کوششوں کے باوجود جاری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان حکومت کی محدود طرز حکمرانی کے باعث سیاسی مخالفین، سابق سکیورٹی اہلکاروں اور دیگر حلقوں کو فیصلہ سازی سے باہر رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہی صورتحال مزاحمت کے لیے جگہ پیدا کر رہی ہے۔
احمدی کا کہنا ہے کہ بدخشاں کی آزادی طالبان حکومت کے مکمل اقتدار کے دعوے کو چیلنج کرسکتی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں مزاحمت کی کامیابی طالبان کے علاقائی کنٹرول اور قومی سیاسی قبولیت کے درمیان فرق بھی واضح کرسکتی ہے۔
سابق افغان کمانڈر کے مطابق آزاد بدخشاں افغان مزاحمت کو متبادل سیاسی نظام منظم کرنے کے لیے جگہ فراہم کرسکتا ہے۔ ان کے بقول اس پیش رفت سے جلاوطن حکومت کے قیام کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حکومت طالبان کے سیاسی جواز کے دعوے کو چیلنج کرے گی اور افغانستان میں نمائندہ طرز حکمرانی، قانون کی بالادستی اور سیاسی شرکت کی بحالی کی بحث کو آگے بڑھا سکتی ہے۔