کوئٹہ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے الگ الگ واقعات میں کئی افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں سڑک کی تعمیر پر مامور مزدور بھی شامل ہیں۔
کوئٹہ کے نواحی علاقے مستونگ روڈ پر فائرنگ کے واقعے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے۔ پولیس کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں سول اسپتال منتقل کر دی گئی ہیں جبکہ واقعے میں ملوث ملزمان فائرنگ کے بعد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مزید تحقیقات جاری ہیں۔
مزدوروں پر فائرنگ
دوسری جانب سرانان کے علاقے سلیمان زئی میں مسلح افراد نے سڑک کی تعمیر کا کام کرنے والے مزدوروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 مزدور جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے کام کے دوران مزدوروں پر فائرنگ کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
نامعلوم افراد نے تعمیراتی مشینری کو بھی فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اطلاع ملنے پر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر لاشوں اور زخمی کو ہسپتال منتقل کیا۔ جاں بحق ہونے والے مزدوروں کا تعلق پنجاب سے بتایا جاتا ہے۔
سوراب میں فائرنگ
اسی دوران آواران میں نامعلوم مسلح افراد نے باپ بیٹے کو گولی مار کر قتل کر دیا، جبکہ سوراب میں ایک اور شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ ان تمام واقعات میں سیکیورٹی فورسز نے لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا۔
حکومتی رہنماؤں کی مذمت
وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وزیرِ داخلہ ضیا لانگو نے ان واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد یہ سمجھ لیں کہ معصوم پاکستانیوں کی شہادت ان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ معصوم لوگوں کو نشانہ بنانا دہشت گردوں کی سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے اور ایسے لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
دیکھیے: بنوں میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، موٹر سائیکل سے بارودی مواد برآمد