انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

April 14, 2026

عمر عبداللہ نے کہا کہ جب تک ان کی حکومت اقتدار میں ہے، ایسے عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون و انتظام کی صورتحال کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔

April 14, 2026

ہارورڈ یونیورسٹی میں ‘پاکستان کانفرنس 2026’ کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار

April 14, 2026

جیو نیوز کی جانب سے بھارتی مواد کی مسلسل نشریات پر پیمرا کا شوکاز نوٹس؛ صحافتی حلقوں نے جیو کے ‘مظلومیت کے بیانیے’ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا

April 14, 2026

پاکستان نے تہران کے ساتھ نئی تجارتی راہداری فعال کر کے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کر لی؛ پہلی تجارتی کھیپ روانہ، ماہرین اسے خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی و معاشی اثر و رسوخ کا عکاس قرار دے رہے ہیں

April 14, 2026

جیو کا مظلومیت کارڈ بمقابلہ زمینی حقائق: سنسرشپ یا عدالتی حکم کی صریح خلاف ورزی؟

جیو نیوز کی جانب سے بھارتی مواد کی مسلسل نشریات پر پیمرا کا شوکاز نوٹس؛ صحافتی حلقوں نے جیو کے ‘مظلومیت کے بیانیے’ کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا
جیو نیوز کی جانب سے بھارتی مواد کی مسلسل نشریات پر پیمرا کا شوکاز نوٹس؛ صحافتی حلقوں نے جیو کے 'مظلومیت کے بیانیے' کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتی احکامات کی کھلی خلاف ورزی قرار دے دیا

آشا بھوسلے کوریج پر جیو نیوز کو پیمرا کا نوٹس۔ سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کی خلاف ورزی اور سوشل میڈیا پر معروف صحافیوں کا جیو کے خلاف شدید ردعمل

April 14, 2026

گزشتہ چند روز سے جیو نیوز اور اس سے وابستہ مخصوص حلقوں کی جانب سے پیمرا کے شوکاز نوٹس کو “میڈیا پر قدغن” اور “ریاستی جبر” بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ تاہم حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو جیو کا یہ ‘مظلومیت کا بیانیہ’ ریت کی دیوار ثابت ہوتا ہے۔ جیو نے بھارتی گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال پر محض ایک خبر نشر نہیں کی، بلکہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت 18 بار مکمل پیکجز نشر کیے جن میں 100 سے زائد بھارتی گانے اور فلمی مناظر شامل تھے۔ یہ کوئی اتفاقی کوریج نہیں تھی بلکہ ایک ایسی باقاعدہ پروگرامنگ تھی جو مکمل طور پر ملکی قوانین کے تحت ممنوعہ مواد پر مبنی تھی۔

اس حوالے سے سوشل میڈیا پر عوامی اور صحافتی حلقوں میں بحث چھڑ گئی ہے۔ اوپن سیکریٹس نے اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ “کیا کسی چینل کو عدالتی فیصلوں کو نظر انداز کرنے کا حق حاصل ہے؟ سپریم کورٹ آف پاکستان کا 2018 کا فیصلہ بھارتی مواد کی نشریات پر واضح پابندی عائد کرتا ہے۔ پیمرا کا نوٹس کسی کی آواز دبانے کے لیے نہیں بلکہ قانون کی عملداری کے لیے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ آزادیٔ اظہار کسی ادارے کو بار بار عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا جواز فراہم نہیں کرتی۔

قانون سب کے لیے برابر

معروف تجزیہ کار وجاہت کاظمی نے جیو کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ “جیو کو ریاستی زیادتی کا شکار ظاہر کرنا حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہے۔ 100 سے زائد بھارتی گانوں کی 18 بار نشریات ایک باقاعدہ حکمت عملی ہے جو عدالتی فیصلے کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ جب صحافی ایسی خلاف ورزیوں کا دفاع کرتے ہیں تو وہ دراصل ایک ایسے نظام کی حمایت کر رہے ہوتے ہیں جہاں بڑے ادارے خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔

قومی قوانین اور عوامی جذبات کی توہین

پیمرا کے اس اقدام کو عوامی سطح پر بھی بھرپور تائید مل رہی ہے۔ اور معظم فخر نے اسے ایک سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ “جب پاکستان اور ہمارے فنکاروں سے متعلق مثبت خبریں نظر انداز کی جاتی ہیں تو ایسے متنازع مواد کو کیوں نمایاں کیا جاتا ہے؟ جیو نے قومی قوانین اور عوامی جذبات کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔”

صحافت یا قانونی انحراف؟

تجزیہ کار یاسر رحمان کا ماننا ہے کہ صحافت کا مقصد ذمہ داری ہے، لیکن جب ممنوعہ مواد کو “خبر” کے لبادے میں پیش کیا جائے تو یہ محض ادارتی غلطی نہیں بلکہ سنگین قانونی جرم بن جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ “میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور اس کی مضبوطی قومی وقار کی پاسداری میں ہے۔ پیمرا کی کارروائی اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کوئی ادارہ قانون سے بالاتر نہیں اور نہ ہی کسی کو عوامی اقدار سے کھیلنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔”

قانون کی بالادستی ناگزیر

زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ جیو نیوز کے خلاف پیمرا کا ایکشن کسی سنسرشپ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک پابند عدالتی حکم کی تعمیل ہے۔ آزادیٔ اظہارِ رائے کو دانستہ خلاف ورزیوں کے لیے بطورِ ڈھال استعمال کرنا صحافت کی توہین ہے۔ اگر بڑے نیٹ ورکس کو ایسی سنگین خلاف ورزیوں پر چھوٹ دی گئی تو ملک میں قانون کی حکمرانی محض ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ تمام ادارے خود کو قانون کے تابع کریں، کیونکہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں، چاہے ادارہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔

متعلقہ مضامین

انجیل ضلع کے قریب ہونے والے حملے میں جاں بحق افراد کا تعلق زیادہ تر شیعہ برادری سے تھا۔ واقعے کے بعد بڑی تعداد میں لوگ جنازوں میں شریک ہوئے، جہاں طالبان کی جانب سے عوامی احتجاج پر عائد پابندیوں کے باوجود ہجوم جمع ہوا۔

April 14, 2026

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم دوسری جانب کی پوزیشن واضح نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کا اگلا مرحلہ ہوتا ہے تو پاکستان اس کے لیے ترجیحی مقام ہوگا۔

April 14, 2026

عمر عبداللہ نے کہا کہ جب تک ان کی حکومت اقتدار میں ہے، ایسے عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون و انتظام کی صورتحال کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔

April 14, 2026

ہارورڈ یونیورسٹی میں ‘پاکستان کانفرنس 2026’ کا انعقاد؛ عالمی ماہرین نے ایران-امریکہ جنگ بندی میں پاکستان کے ثالثی کردار کو سراہا، معاشی اصلاحات اور مستحکم خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار

April 14, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *