"> خلیجی بندرگاہیں یا سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں: ایران کا دو ٹوک اعلان - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

خلیجی بندرگاہیں یا سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں: ایران کا دو ٹوک اعلان

ایران نے آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور دشمن جہازوں کا راستہ روکنے کا اعلان کر دیا؛ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں
ایران نے آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور دشمن جہازوں کا راستہ روکنے کا اعلان کر دیا؛ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں

ایران کا خلیجی بندرگاہوں سے متعلق سخت ترین مؤقف: آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور ٹیکس وصولی کا عندیہ۔ دشمن جہازوں کے لیے گزرگاہ بند کرنے کی دھمکی

April 13, 2026

ایران نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہوں سے متعلق اپنے تزویراتی مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ بندرگاہیں یا تو تمام ممالک کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی رہیں گی یا پھر کسی کو بھی ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئے بحری تناؤ اور ممکنہ ناکہ بندی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق مسلح افواج کے کمانڈر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ علاقائی پانیوں میں خودمختاری کا استعمال ایرانی قوم کا فطری اور قانونی حق ہے۔ بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایران نہ صرف آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا بلکہ دشمن ممالک سے منسلک جہازوں کو اس اہم ترین گزرگاہ سے گزرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول کا ایک نیا اور مربوط نظام نافذ کیا جائے گا۔

ٹیکس کی وصولی

ایرانی افواج نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، جسے “جنگی ہرجانے” کے حصول کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو صرف ایرانی قوانین کی مکمل پاسداری کی صورت میں ہی گزرنے کی اجازت ہوگی۔

امریکہ پر کڑی تنقید

ایرانی اعلامیے میں امریکہ کے حالیہ اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی اور “بحری قذاقی” کے مترادف ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی سیکیورٹی کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو ردِعمل کے طور پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

عالمی معیشت پر اثرات کا خدشہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ موقف آبنائے ہرمز سے ہونے والی عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے “سب کے لیے یا کسی کے لیے نہیں” کی پالیسی نے عالمی منڈیوں اور خطے کے تجارتی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی اسلام آباد مذاکرات کے تعطل کے بعد سٹریٹجک صبر کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *