اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

September 1, 2026

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

September 1, 2026

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 31, 2026

پی ٹی ایم کے جبری گمشدگیوں کے بیانیے پر سوالات، تنظیم پر را اور دہشت گرد نیٹ ورکس سے مبینہ روابط کے الزامات بھی سامنے آگئے۔

August 31, 2026

ہیگ کی ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدہ معطل رکھنے کا بھارتی اقدام مسترد کردیا، بھارت نے فیصلے کو ماننے سے انکار کردیا۔

August 31, 2026

خلیجی بندرگاہیں یا سب کے لیے ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں: ایران کا دو ٹوک اعلان

ایران نے آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور دشمن جہازوں کا راستہ روکنے کا اعلان کر دیا؛ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں
ایران نے آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور دشمن جہازوں کا راستہ روکنے کا اعلان کر دیا؛ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ بندرگاہیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا کسی کے لیے نہیں

ایران کا خلیجی بندرگاہوں سے متعلق سخت ترین مؤقف: آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول اور ٹیکس وصولی کا عندیہ۔ دشمن جہازوں کے لیے گزرگاہ بند کرنے کی دھمکی

April 13, 2026

ایران نے خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی بندرگاہوں سے متعلق اپنے تزویراتی مؤقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ بندرگاہیں یا تو تمام ممالک کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھلی رہیں گی یا پھر کسی کو بھی ان کے استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی مسلح افواج کی جانب سے جاری کردہ یہ بیان خطے میں بڑھتی ہوئے بحری تناؤ اور ممکنہ ناکہ بندی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے (آئی آر آئی بی) کے مطابق مسلح افواج کے کمانڈر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ علاقائی پانیوں میں خودمختاری کا استعمال ایرانی قوم کا فطری اور قانونی حق ہے۔ بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایران نہ صرف آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو اپنے ہاتھ میں رکھے گا بلکہ دشمن ممالک سے منسلک جہازوں کو اس اہم ترین گزرگاہ سے گزرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایرانی حکام کے مطابق، جنگ کے خاتمے کے بعد بھی آبنائے ہرمز پر مستقل کنٹرول کا ایک نیا اور مربوط نظام نافذ کیا جائے گا۔

ٹیکس کی وصولی

ایرانی افواج نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے، جسے “جنگی ہرجانے” کے حصول کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک کے جہازوں کو صرف ایرانی قوانین کی مکمل پاسداری کی صورت میں ہی گزرنے کی اجازت ہوگی۔

امریکہ پر کڑی تنقید

ایرانی اعلامیے میں امریکہ کے حالیہ اقدامات کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں جہازوں کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کرنا غیر قانونی اور “بحری قذاقی” کے مترادف ہے۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر ایرانی بندرگاہوں کی سیکیورٹی کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو ردِعمل کے طور پر خلیج فارس اور بحیرہ عمان کی کوئی بھی بندرگاہ محفوظ نہیں رہے گی۔

عالمی معیشت پر اثرات کا خدشہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ موقف آبنائے ہرمز سے ہونے والی عالمی توانائی کی ترسیل کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ ایران کی جانب سے “سب کے لیے یا کسی کے لیے نہیں” کی پالیسی نے عالمی منڈیوں اور خطے کے تجارتی ممالک میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جو پہلے ہی اسلام آباد مذاکرات کے تعطل کے بعد سٹریٹجک صبر کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش، متعدد علاقے زیر آب آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح بڑھ گئی۔

September 1, 2026

مکہ دفاعی معاہدے کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کا دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر اتفاق، سیکریٹریٹ کی سربراہی پاکستان کے حوالے۔

September 1, 2026

داعش خراسان کا باجوڑ میں انٹیلی جنس اہلکار کو نشانہ بنانے کا دعویٰ، پاکستان میں سکیورٹی دباؤ کے تناظر میں تنظیم کے پراپیگنڈا پر سوالات اٹھ گئے۔

August 31, 2026

طالبان کی عمران خان کے لیے حمایت اور 9 مئی کو جی ایچ کیو و کور کمانڈر ہاؤس پر حملوں نے ملکی سلامتی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

August 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *