مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

فارم 47 پر حافظ حمداللہ کے بیانات، جے یو آئی (ف) کے اپنے مینڈیٹ پر بھی سوالات

حافظ حمداللہ کی جانب سے پارلیمنٹ کو فارم 47 کی پیداوار قرار دینے پر جے یو آئی (ف) کے اپنے انتخابی مینڈیٹ اور پارلیمانی کردار پر سوالات اٹھ گئے۔
حافظ حمداللہ کا فارم 47 بیان، جے یو آئی (ف) پر سوالات

حافظ حمداللہ کے فارم 47 سے متعلق بیان کے بعد جے یو آئی (ف) کی اپنی نشستوں، حلف اور پارلیمانی موجودگی پر سیاسی حلقوں نے سوالات اٹھا دیے۔

September 13, 2026

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ کی جانب سے موجودہ پارلیمنٹ کو فارم 47 کی پیداوار قرار دیے جانے پر سیاسی حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

حافظ حمداللہ نے اپنے حالیہ بیان میں موجودہ پارلیمنٹ کو عوامی نمائندگی کا حقیقی عکاس قرار دینے سے انکار کیا اور اسے فارم 47 کے ذریعے تشکیل پانے والا ایوان قرار دیا۔

تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر پورا پارلیمانی نظام فارم 47 کی بنیاد پر غیر نمائندہ ہے تو اس سوال کا اطلاق جے یو آئی (ف) کی حاصل کردہ نشستوں پر بھی ہونا چاہیے۔

جے یو آئی (ف) کی موجودگی

2024 کے عام انتخابات میں جے یو آئی (ف) نے قومی اسمبلی کی متعدد عام نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ پارٹی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی این اے 265 پشین سے کامیابی حاصل کی۔

خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بھی جے یو آئی (ف) نے عام اور مخصوص نشستوں کے ذریعے پارلیمانی نمائندگی حاصل کی۔

مبصرین کے مطابق انتخابات میں تمام جماعتوں کے لیے ایک ہی انتخابی نظام نافذ تھا۔ حلقوں میں فارم 45 اور فارم 47 بھی اسی انتخابی عمل کا حصہ تھے۔

اس لیے سوال یہ ہے کہ اگر فارم 47 کی بنیاد پر پورے ایوان کی حیثیت کو مسترد کیا جاتا ہے تو جے یو آئی (ف) کی حاصل کردہ نشستوں کو اسی عمل سے الگ کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟

نشستیں اور حلف

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) نے انتخابات کے بعد اپنی کامیاب نشستوں کو برقرار رکھا اور ارکان نے پارلیمنٹ کا حلف بھی اٹھایا۔

جماعت نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں اپنی پارلیمانی موجودگی بھی قائم رکھی۔ مخصوص نشستوں کے حصول کے بعد اس کی پارلیمانی نمائندگی مزید بڑھی۔

ناقدین کے مطابق اس صورت حال میں ایک طرف پارلیمنٹ کو فارم 47 کی پیداوار قرار دینا اور دوسری طرف اسی انتخابی عمل کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نشستوں اور پارلیمانی کردار کو قبول کرنا سوالات پیدا کرتا ہے۔

مختلف مؤقف؟

مبصرین کے مطابق اگر 2024 کے انتخابات میں فارم 47 کو پورے نظام کا حصہ مانا جائے تو اس کا اطلاق تمام جماعتوں پر یکساں ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انتخابی عمل کو مجموعی طور پر متنازع قرار دینے کی صورت میں کسی ایک جماعت کے مینڈیٹ کو الگ سے مکمل طور پر درست قرار دینا بھی وضاحت طلب ہے۔

اسی تناظر میں حافظ حمداللہ کے بیانات کے بعد سیاسی بحث دوبارہ شروع ہوگئی ہے کہ اگر موجودہ پارلیمنٹ غیر نمائندہ ہے تو جے یو آئی (ف) کی اپنی پارلیمانی نشستوں اور حلف کی حیثیت کیا بنتی ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *