ضلع ہنگو میں خوارج کے بزدلانہ حملے میں ایک ڈی ایس پی سمیت 9 پولیس اہلکار شہید جبکہ 28 شدید زخمی ہو گئے۔ اس سکیورٹی واقعے کے فوراً بعد پولیس پر حملہ کرنے والے خوارج کا پراپیگنڈا بے نقاب ہو گیا ہے۔
دہشت گردوں نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے ایک منظم ویڈیو جاری کی، جس میں گرفتار اہلکاروں سے مصنوعی ہمدردی اور انہیں فی کس 10 ہزار روپے دینے کا سستا ڈرامہ رچایا گیا۔ سکیورٹی ذرائع نے اس جعلی ویڈیو اور شعبدہ بازی کی شدید الفاظ میں تردید کی ہے۔
حکام کے مطابق بے گناہ شہریوں، اساتذہ اور سکیورٹی اہلکاروں کا خون بہانے والے سفاک عناصر کی یہ ڈرامائی ہمدردی محض اپنے مجروح شدہ امیج کو بچانے کی ناکام کوشش ہے۔ عوام ان کی کھلی منافقت اور پرتشدد کارروائیوں کی حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں۔
دہشت گرد نیٹ ورکس بیرونی سرپرستی، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور منشیات کی اسمگلنگ سے مالی وسائل حاصل کرتے ہیں، جن کا مقصد صرف ملک میں بدامنی پھیلانا ہے۔
خیبر پختونخوا پولیس 1970 سے اب تک 2,659 اور 2001 سے اب تک 2,413 بہادر اہلکاروں کی قربانی دے چکی ہے۔ کے پی پولیس دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں کھڑی ہے اور خوارج کے اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔