ضلع ہنگو میں سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پولیس اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں نے خوارج کے ایک شدید حملے کو اپنی بے مثال شجاعت اور استقامت سے ناکام بنا دیا۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی متعدد ویڈیوز نے مقامی پولیس اور کمانڈوز کی غیر معمولی بہادری، پیشہ ورانہ مہارت اور فرض شناسی کو دنیا کے سامنے لا دیا ہے۔
خوارج نے ایک مرتبہ پھر ہنگو میں پولیس اہلکاروں پر گھات لگا کر بزدلانہ حملہ کیا، کیونکہ وہ میدان میں پولیس کا براہِ راست مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتے۔ ان کا مقصد پولیس کو خوفزدہ کرنا، اس کے حوصلے پست کرنا اور دہشت و بے یقینی کی فضا قائم کرنا تھا، مگر پولیس کے بہادر جوانوں نے بے مثال جرات اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وطن کے دفاع میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔
ضلع ہنگو میں پولیس اور اسپیشل فورسز کے اہلکاروں پر ہونے والے مسلح حملے کی وائرل ویڈیوز نے مقامی پولیس اور کمانڈوز کی غیر معمولی بہادری اور استقامت کو سامنے لا دیا ہے۔
— HTN Urdu (@htnurdu) August 1, 2026
ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شدید فائرنگ اور واضح طور پر زخمی ہونے کے باوجود ان بہادر اہلکاروں نے پیچھے ہٹنے… pic.twitter.com/BKc792wk8o
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی دل دہلا دینے والی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مسلح عناصر کی جانب سے انتہائی شدید فائرنگ کی گئی۔ اس معرکہ آرائی کے دوران متعدد اہلکار شدید زخمی بھی ہوئے، تاہم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے بھی ان بہادر جوانوں نے پیچھے ہٹنے یا ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا۔
ویڈیوز میں زخمی افسران اور جوانوں کو خون میں لت پت ہونے کے باوجود اپنی پوزیشنز سنبھالے ہوئے، دشمن کی گولیوں کا دلیری سے جواب دیتے اور آخری دم تک اپنے محاذ کا دفاع کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق سکیورٹی اہلکاروں کی اس بروقت اور سر دھڑ کی بازی لگا دینے والی مزاحمت کے باعث حملہ آوروں کو شدید پیش قدمی سے روک دیا گیا اور انہیں پسپا ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔
مشترکہ کارروائی
پولیس اور اسپیشل فورسز کی اس مشترکہ کارروائی اور جوانوں کی ثابت قدمی کو عوامی، سیاسی اور دفاعی حلقوں کی جانب سے بے حد سراہا جا رہا ہے، جبکہ وائرل ویڈیوز پر شہریوں کی جانب سے ان بہادر جوانوں کی فرض شناسی اور عظیم قربانی کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی حالیہ لہر ایک بار پھر اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ خوارج طویل عرصے سے پولیس کو اپنی کارروائیوں کا بنیادی ہدف بناتے آئے ہیں۔ یہ حملے محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ریاستی اداروں کو کمزور کرنے، امن و امان کو سبوتاژ کرنے اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلانے کی ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
پولیس چونکہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور سکیورٹی خطرات کا فوری مقابلہ کرنے والی پہلی دفاعی قوت ہے، اس لیے خوارج اسے مسلسل نشانہ بناتے ہیں تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل کیا جا سکے۔
پولیس کا عزم
تاہم مسلسل حملوں، زخمیوں اور شہادتوں کے باوجود پولیس کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا ہے۔ ہر قربانی پولیس کے حوصلے، پیشہ ورانہ صلاحیت اور دہشت گردی کے خلاف اس کے عہد کو مزید تقویت دیتی ہے۔
پولیس کے جوان بہادری اور غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ عوام، سرکاری اداروں اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے شب و روز خدمات انجام دے رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف صفِ اول میں ڈٹے ہوئے ہیں۔
دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پولیس کے حوصلے ہرگز پست نہیں کر سکتیں بلکہ ہر حملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اس عزم کو مزید مضبوط کرتا ہے کہ وہ دہشت گردی کو شکست دے کر قانون کی بالادستی اور قومی سلامتی کو ہر قیمت پر یقینی بنائیں گے۔
پولیس کے شہداء کی قربانیاں وطن سے ان کی غیر متزلزل وفاداری اور دفاعِ پاکستان کے لیے ہر قربانی دینے کے جذبے کی روشن علامت ہیں۔ پوری قوم اپنی پولیس کے ساتھ کھڑی ہے، ان کی قربانیوں کو سلام پیش کرتی ہے اور امن، استحکام اور قومی سلامتی کے قیام میں ان کے ناگزیر کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی