افغانستان کے شہر ہرات میں طالبان نے لباس سے متعلق اپنے سخت ضوابط کی خلاف ورزی پر خواتین کے خلاف ایک بار پھر بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف کی ٹیموں نے متعدد خواتین کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان اہلکاروں نے جمعہ کے روز جمعہ بازار سے خواتین کو مبینہ طور پر غیر موزوں لباس کے الزام میں گرفتار کیا۔ نیر طالبان کی گاڑیوں میں خواتین کو لے جائے جانے کی تصاویر بھی منظرِ عام پر آئی ہیں، تاہم گرفتار ہونے والی خواتین کی درست تعداد فی الحال معلوم نہیں ہو سکی۔
طالبان بار دیگر شماری از زنان را در هرات بازداشت کرد pic.twitter.com/YdvuCvAx60
— رادیو افغانستان اینترنشنال (@AFIntlRadio) July 10, 2026
ہرات میں خواتین کی ان گرفتاریوں کا سلسلہ جون کے وسط سے مسلسل جاری ہے، جس کے خلاف مقامی آبادی کی جانب سے شدید احتجاج بھی کیا جا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں جبرائیل ٹاؤن شپ کے رہائشیوں نے تعلیم، کام، آزادی کے نعروں کے ساتھ احتجاج کیا، جسے منتشر کرنے کے لیے طالبان نے مظاہرین پر سیدھی فائرنگ اور شدید تشدد کیا۔
دیکھیے: افغانستان اور بھارت کا ڈی این اے ایک ہے: طالبان وزیر کا نئی دہلی میں متنازع بیان