دنیا کے کئی خطوں میں نفرت، تفریق اور مذہبی منافرت کی خبریں معمول بن چکی ہیں۔ ایسے میں حیدرآباد بائی پاس پر واقع ایک نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے آنے والی خبر ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے۔ ایک ہندو، دادا ہریش کمار دیوان، نے سوسائٹی میں ایک خوبصورت مسجد کی بنیاد رکھی اور ربن کاٹ کر اس کا افتتاح کیا۔ یہ محض ایک عمارت کا سنگِ بنیاد نہیں۔ یہ اس معاشرے کا آئینہ ہے جہاں ایک غیر مسلم اپنے مسلمان ہم وطنوں کی عبادت گاہ بنانے کو سعادت سمجھتا ہے اور کسی کو اس پر حیرت یا خوف نہیں ہوتا۔
یہ واقعہ الگ تھلگ بھی نہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر مذہبی ہم آہنگی کی روایت بہت پرانی ہے۔ بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 11 اگست 1947ء کو دستورساز اسمبلی میں واضح کر دیا تھا کہ ریاست کی نظر میں ہر شہری برابر ہے اور ہر ایک اپنی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہے۔ اسی وژن کی گونج آج بھی ہر سال 11 اگست کو قومی یومِ اقلیت کی صورت میں سنائی دیتی ہے۔ آئینِ پاکستان کی دفعہ 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کا حق دیتی ہے، اور دفعہ 36 ریاست کو اقلیتوں کے جائز حقوق اور مفادات کے تحفظ کا پابند بناتی ہے۔
اقلیتوں کی سیاسی شمولیت کا نظام بھی اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ قومی اسمبلی، سینیٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں غیر مسلموں کے لیے مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں، اور وفاقی ملازمتوں میں اُن کے لیے کوٹہ مقرر ہے۔ ہندو میرج ایکٹ جیسی قانون سازی نے ہندو برادری کو اپنے عائلی معاملات میں قانونی تحفظ دیا۔ کرتارپور راہداری کا کھلنا اس بات کی روشن مثال ہے کہ پاکستان نے سکھ برادری کے لیے اپنی سرحدیں اور دل دونوں کھول دیے۔
کٹاس راج جیسے قدیم مندروں کی بحالی اور سکھ گوردواروں کی دیکھ بھال دنیا کو بتاتی ہے کہ یہاں دوسروں کے ورثے کو بوجھ نہیں، امانت سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ اور سول سروس میں غیر مسلم افراد اعلیٰ مناصب تک پہنچے ہیں، جن میں جسٹس رانا بھگوان داس کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔
مغربی میڈیا اور بعض بین الاقوامی ادارے اکثر پاکستان کو ایک ہی رنگ میں پیش کرتے ہیں، گویا یہاں اقلیتوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو۔ مگر ہریش کمار دیوان جیسے لوگ اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔ جب ایک ہندو بے جھجک ایک مسجد کی بنیاد رکھتا ہے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پاکستانی عوام کی اکثریت میں بھائی چارے کی جڑیں کسی سرکاری اعلان سے زیادہ گہری ہیں۔
اس کے برعکس سرحد کے اُس پار کی تصویر پریشان کن ہے۔ بھارت میں گائے کے تحفظ کے قوانین نے ایسی فضا بنا دی ہے جس میں اقلیتیں خود کو غیر محفوظ سمجھتی ہیں۔ حال ہی میں گجرات کی ایک عدالت نے گائے ذبح کرنے کے مقدمے میں تین مسلمانوں کو عمر قید کی سزا سنائی، جس پر خود بھارتی ناقدین نے بھی سوال اٹھائے ہیں کہ یہ قوانین غیر متناسب طور پر مسلمانوں اور دلتوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
جس ملک کی ریاست ایک جانور کے ذبح پر انسانوں کو زندگی بھر کے لیے قید کر دے، وہاں اقلیتوں کے حقوق کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔ بھارت کے لیے حیدرآباد کی یہ مسجد ایک آئینہ ہے، اور پاکستان مشعلِ راہ کے طور پر یہ پیغام دیتا ہے کہ ریاستی طاقت کا رخ کمزور کی طرف نہیں، اس کے تحفظ کی طرف ہونا چاہیے۔
ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے معاشرے میں کوئی خامی نہیں۔ کوئی بھی ملک کامل نہیں ہوتا۔ مگر فرق یہ ہے کہ یہاں ریاست، آئین اور عوام کی اجتماعی کوشش اصلاح کی سمت میں رہی ہے۔ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہماری ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہمارے سماجی مزاج کا حصہ بھی۔ دادا ہریش کمار دیوان جیسے محبِ وطن شہری ہماری اس طاقت کی علامت ہیں کہ اس ملک میں مندر اور مسجد ایک ہی آسمان تلے سانس لیتے ہیں۔
آخر میں، یہ مسجد صرف اینٹوں اور گارے کی عمارت نہیں، یہ ایک پیغام ہے۔ یہ پیغام دنیا کے لیے ہے کہ پاکستان کو سمجھنا ہو تو اس کے عام لوگوں کے دلوں کو دیکھیں۔ یہ پیغام ہمارے اپنے لیے بھی ہے کہ ہم اس رواداری کو نفرت کی ہر لہر سے محفوظ رکھیں۔ جب تک اس سرزمین پر ایسے لوگ موجود ہیں جو دوسرے کے سجدے کے لیے جگہ بناتے ہیں، تب تک پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔





