اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

April 16, 2026

اس حادثے میں 8 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ابتدائی مرحلے میں 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلسل تلاش اور کھدائی کے عمل کے دوران عبدالوہاب نامی مزدور کو 17 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

April 16, 2026

دورے کے دوران فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔

April 16, 2026

ترجمان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف فورم کے دوران “لیڈرز پینل” میں شرکت کر کے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے، جبکہ ترک صدر رجب طیب اردوان سمیت دیگر عالمی رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی شیڈول میں شامل ہیں۔

April 16, 2026

ترجمان نے افغانستان سے متعلق واضح کیا کہ پاکستان کا بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس حوالے سے تحریری اور قابل تصدیق یقین دہانیاں چاہتا ہے۔

April 16, 2026

بھارتی ڈیجیٹل پراکسیز کا نیٹ ورک بے نقاب؛ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا منصوبہ ناکام

بھارت کے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی اور ریاست مخالف بیانیہ کو ہوا دینے میں مصروف تھا
بھارت کے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی اور ریاست مخالف بیانیہ کو ہوا دینے میں مصروف تھا

بلوچستان میں بھارتی ایجنسیوں کی ڈیجیٹل مداخلت اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی بے نقاب۔ عالمی برادری پاکستان کے خودمختارانہ حقوق اور استحکام کی حامی۔

March 2, 2026

بلوچستان میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے زیرِ اہتمام کام کرنے والے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق ‘میر یار بلوچ’ جیسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو خود کو بلوچستان سے متعلق مبصر ظاہر کرتے ہیں درحقیقت بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان ڈیجیٹل پراکسیز کا بنیادی مقصد پاکستان کے قدرتی وسائل پر اس کے خودمختارانہ حقوق پر سوال اٹھانا اور بین الاقوامی سطح پر ریاست مخالف بیانیہ تیار کرنا ہے۔ یہ بیانیہ جنگ دراصل دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور پاکستان کے آئینی وقار کو مجروح کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طے شدہ منصوبے کے تحت جب بھی زمین پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے فوراً بعد ڈیجیٹل دنیا میں پراپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ حقائق کو مسخ کر کے عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔ تاہم،عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف انتہائی مستحکم ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکہ، برطانیہ اور چین سمیت عالمی برادری نے بھرپور مذمت کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کو ‘1267 سنکشنز’ کے تحت عالمی سطح پر فہرست بند کرے تاکہ ان کی مالی و نظریاتی پشت پناہی روکی جا سکے۔ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کے وسائل کا انتظام مکمل طور پر ملکی آئین کے تحت ہے، جسے کسی بھی ڈیجیٹل احتجاج یا پراکسی کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان ایک ایٹمی قوت، انسدادِ دہشت گردی کا اہم شراکت دار اور خطے کا جغرافیائی پل ہونے کے ناطے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ‘فتنہ الہندستاں’ جیسے ہائبرڈ خطرات، جو زمینی اور ڈیجیٹل دونوں محاذوں پر متحرک ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا دفاعی موقف واضح ہے؛ ہم استحکام کے حامی ہیں لیکن ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش بغیر جواب کے نہیں چھوڑی جائے گی۔

دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

متعلقہ مضامین

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کے خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹر کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی سے بھی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات، علاقائی سکیورٹی اور باہمی تعاون کے امور زیر بحث آئے۔

April 17, 2026

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے ساتھ ڈیل اسلام آباد میں ہوئی تو میں وہاں جا سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ بندی میں بہت عمدہ کردار ادا کیا اور پاکستانی قیادت کی کارکردگی قابل تعریف ہے۔

April 16, 2026

اس حادثے میں 8 مزدور جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ابتدائی مرحلے میں 2 افراد کو زندہ نکال لیا گیا تھا۔ بعد ازاں مسلسل تلاش اور کھدائی کے عمل کے دوران عبدالوہاب نامی مزدور کو 17 روز بعد زندہ نکال لیا گیا۔

April 16, 2026

دورے کے دوران فیلڈ مارشل کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جنہوں نے امریکا ایران مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے ایران اور پاکستان کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔

April 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *