"> بھارتی ڈیجیٹل پراکسیز کا نیٹ ورک بے نقاب؛ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا منصوبہ ناکام - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بھارتی ڈیجیٹل پراکسیز کا نیٹ ورک بے نقاب؛ بلوچستان میں غیر ملکی مداخلت کا منصوبہ ناکام

بھارت کے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی اور ریاست مخالف بیانیہ کو ہوا دینے میں مصروف تھا
بھارت کے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے جو بلوچستان میں دہشت گردی اور ریاست مخالف بیانیہ کو ہوا دینے میں مصروف تھا

بلوچستان میں بھارتی ایجنسیوں کی ڈیجیٹل مداخلت اور بی ایل اے جیسے دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی بے نقاب۔ عالمی برادری پاکستان کے خودمختارانہ حقوق اور استحکام کی حامی۔

March 2, 2026

بلوچستان میں بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے زیرِ اہتمام کام کرنے والے ڈیجیٹل پراکسی نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا گیا ہے۔ حالیہ تحقیقات کے مطابق ‘میر یار بلوچ’ جیسے سوشل میڈیا اکاؤنٹس جو خود کو بلوچستان سے متعلق مبصر ظاہر کرتے ہیں درحقیقت بھارتی ایجنسیوں کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ان ڈیجیٹل پراکسیز کا بنیادی مقصد پاکستان کے قدرتی وسائل پر اس کے خودمختارانہ حقوق پر سوال اٹھانا اور بین الاقوامی سطح پر ریاست مخالف بیانیہ تیار کرنا ہے۔ یہ بیانیہ جنگ دراصل دہشت گرد تنظیموں بی ایل اے اور بی ایل ایف کی کارروائیوں کو تحفظ فراہم کرنے اور پاکستان کے آئینی وقار کو مجروح کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایک طے شدہ منصوبے کے تحت جب بھی زمین پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے فوراً بعد ڈیجیٹل دنیا میں پراپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے تاکہ حقائق کو مسخ کر کے عالمی برادری کو گمراہ کیا جا سکے۔ تاہم،عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف انتہائی مستحکم ہے۔ فروری کے پہلے ہفتے میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، امریکہ، برطانیہ اور چین سمیت عالمی برادری نے بھرپور مذمت کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی ناقابلِ قبول ہے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ امریکہ پہلے ہی بی ایل اے کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اقوام متحدہ بی ایل اے اور بی ایل ایف کو ‘1267 سنکشنز’ کے تحت عالمی سطح پر فہرست بند کرے تاکہ ان کی مالی و نظریاتی پشت پناہی روکی جا سکے۔ بلوچستان پاکستان کا اٹوٹ انگ ہے اور اس کے وسائل کا انتظام مکمل طور پر ملکی آئین کے تحت ہے، جسے کسی بھی ڈیجیٹل احتجاج یا پراکسی کے ذریعے چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان ایک ایٹمی قوت، انسدادِ دہشت گردی کا اہم شراکت دار اور خطے کا جغرافیائی پل ہونے کے ناطے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے۔ ‘فتنہ الہندستاں’ جیسے ہائبرڈ خطرات، جو زمینی اور ڈیجیٹل دونوں محاذوں پر متحرک ہیں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان کا دفاعی موقف واضح ہے؛ ہم استحکام کے حامی ہیں لیکن ریاست کو غیر مستحکم کرنے کی کوئی بھی کوشش بغیر جواب کے نہیں چھوڑی جائے گی۔

دیکھیے: اسرائیلی افواج نے ایران میں جاں بحق ہونے والی ایرانی اعلیٰ قیادت کی تفصیلات جاری کر دیں

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *