یونیورسٹی آف لاہور کے سینٹر فار سکیورٹی، اسٹریٹجی اینڈ پالیسی ریسرچ کی ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری ہائبرڈ وارفیئر میں اب پراپیگنڈا محض ایک ذیلی حربہ نہیں رہا بلکہ ایک مرکزی ستون کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ دور میں ‘تاثر کا انتظام’ ریاست کے لیے اتنا ہی اہم ہو گیا ہے جتنا کہ جغرافیائی سرحدوں کا دفاع۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ دشمن عناصر کی جانب سے پراپیگنڈا کا طریقہ کار ماضی کے پمفلٹس اور غیر قانونی ایف ایم ریڈیو سے بدل کر اب ‘المرصاد’ جیسے جدید ترین ڈیجیٹل پلیٹ فارمز تک پہنچ چکا ہے۔ یہ نیٹ ورکس آرٹیفیشل انٹیلی جنس، ڈیپ فیکس اور کثیر لسانی مواد کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی اندرونی یکجہتی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان جدید ہتھیاروں کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو مجروح کرنا اور عوام میں مایوسی پھیلانا ہے۔
منظم نیٹ ورکس اور ہیش ٹیگ وارفیئر
رپورٹ میں ‘انڈین کرونیکلز’ اور ‘ہیش ٹیگ وارفیئر’ جیسی مثالوں کے ذریعے واضح کیا گیا ہے کہ کس طرح منظم نیٹ ورکس، جعلی میڈیا آؤٹ لیٹس اور بوٹس کے ذریعے مصنوعی عدم استحکام کا تاثر پیدا کیا جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسے گروہوں نے بھی اپنے بیانیے کو ڈیجیٹل دور کے مطابق ڈھال لیا ہے اور اب وہ بھرتیوں اور فنڈنگ کے لیے کرپٹو کرنسی جیسے جدید اور پیچیدہ طریقے اپنا رہے ہیں۔
علاقائی زبانیں اور نسلی دراڑیں
تحقیق میں اس تشویشناک پہلو کی نشاندہی کی گئی ہے کہ انفارمیشن اسپیس اب ایک فعال میدانِ جنگ بن چکا ہے جہاں پاکستان میں نسلی بنیادوں پر دراڑیں ڈالنے کے لیے علاقائی زبانوں میں مواد تیار کر کے مخصوص طبقات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ ان حالات میں اپنے بیانیے پر کنٹرول حاصل کرنا پاکستان کے تزویراتی اور جیو پولیٹیکل مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے۔
حتمی سفارشات
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو اس ڈیجیٹل یلغار کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک جامع قومی بیانیے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس دفاعی نظام کی ضرورت ہے۔ بیانیے کی اس جنگ میں کامیابی کے بغیر روایتی دفاعی اقدامات کے ثمرات حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔